دفاعِ عقائدِ اہل سنت 
اسلام ایک ایسا کامل اور جامع دین ہے جو انسان کو صرف عبادات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اس کے عقائد، افکار اور ایمان کی حفاظت کو بھی بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ اسی لیے ہر دور میں علماءِ حق نے جہاں ذکر و عبادت میں اپنی زندگیاں گزاریں، وہیں دین کے صحیح عقائد کی حفاظت اور باطل نظریات کی تردید کو بھی اپنا اہم فریضہ سمجھا۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ اگر عقیدہ محفوظ نہ رہے تو عبادت کی روح بھی متاثر ہو جاتی ہے، اور دین کی اصل بنیاد کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اسی سلسلے میں محدثین و اکابرین کے اقوال ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ چنانچہ یہ روایت منقول ہے:
"عن محمد بن سہل البخاری قال کنا عند القربانی فجعل یذکر أھل البدع فقال لہ رجل لو حدثتنا کان أعجب الینا فغضب وقال کلامی فی اھل البدع احب الی من عبادۃ ستین سنۃ"
اس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت محمد بن سہل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم امام قربانی رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے تھے، وہ اہلِ بدعت کا ذکر (یعنی ان کا رد) کر رہے تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ اگر آپ اس کے بجائے ہمیں حدیث سناتے تو ہمیں زیادہ پسند ہوتا۔ یہ سن کر امام قربانی رحمہ اللہ ناراض ہوئے اور فرمایا: اہلِ بدعت کے بارے میں میرا کلام کرنا مجھے ساٹھ سال کی عبادت سے زیادہ محبوب ہے۔ (ماخوذ از: تلبیس ابلیس، ابن جوزی، ص: 16، دار الفکر، بیروت)
اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ اکابرین کے نزدیک باطل نظریات کی تردید محض ایک علمی مشغلہ نہیں بلکہ ایک عظیم دینی خدمت تھی، کیونکہ اس کے ذریعے عوام کے ایمان کی حفاظت ہوتی ہے اور گمراہی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس عمل کو طویل عبادت پر بھی ترجیح دی، اس اعتبار سے کہ اس میں پوری امت کی اصلاح اور دین کی حفاظت مضمر ہے۔
اسی طرزِ فکر کی جھلک ہمیں ہمارے اکابر علماء میں بھی ملتی ہے، خصوصاً امام احمد رضا خان کے کلام میں، جہاں عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ باطل نظریات سے بیزاری اور حق کے دفاع کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

دُشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے
مُلحِدوں کی کیا مُروَّت کیجیے
ذِکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں
چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجیے
مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں
ذکرِ آیاتِ وِلادت کیجیے
غیظ میں جل جائیں بے دِینوں کے دل
’’ یارسول اللہ ‘‘ کی کثرت کیجیے
شِرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب
اس بُرے مذہب پہ لعنت کیجیے
ان اشعار میں دین کے ساتھ غیرت، محبتِ رسول ﷺ کی شدت، اور باطل نظریات سے مکمل براءت کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ان کا اصل مفہوم یہی ہے کہ مسلمان اپنے عقائد میں مضبوط رہے، حق کو پہچانے اور اس کا دفاع کرے، جبکہ باطل سے دوری اختیار کرے۔
یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ اکابرین کا یہ اسلوب دراصل علمی اور اصولی بنیادوں پر قائم تھا۔ ان کی تردید کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ حق کو واضح کرنا اور لوگوں کو گمراہی سے بچانا تھا۔ اسی لیے جب ہم ان اقوال اور اشعار کو پڑھتے ہیں تو ہمیں بھی یہی سبق ملتا ہے کہ دین کی خدمت علم، دلیل اور سنجیدگی کے ساتھ کی جائے، تاکہ اصلاح کا دروازہ کھلا رہے اور امت میں خیر کا ماحول قائم ہو۔
خلاصہ یہ کہ عقائدِ حقہ کی حفاظت اور باطل نظریات کا رد یقیناً ایک عظیم دینی فریضہ ہے، جیسا کہ اکابرین کے اقوال اور تصریحات سے واضح ہوتا ہے۔ لیکن اس کا حقیقی حسن اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب اسے اخلاص، علم اور باوقار انداز کے ساتھ انجام دیا جائے، کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جو دین کی اصل روح کے عین مطابق ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔

محمد فداء المصطفٰی قادری 
پی جی ریسرچ اسکالر دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا 
28/02016