نسل کو بچانا ہے تو نظام بناؤ ابھی اور اسی وقت


✍🏻 محمد پالن پوری


مسلم معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب صرف خبریں نہیں رہیں بلکہ یہ خطرے کی گھنٹیاں ہیں، زوال کی آوازیں ہیں اور آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ہیں۔۔۔۔۔

ایک لڑکی سوشل میڈیا سے نکاح کر لیتی ہے، ایک لڑکا گھر سے بھٹک جاتا ہے، ارتداد کے واقعات ، غلط تعلقات کے سانحات اور نا جانے کیا کیا خرابیاں بڑھ چکی ہیں اور افسوس کہ والدین کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی اولاد کے ذہن میں کون سا سوال پل رہا ہے، کس دنیا میں وہ جی رہی ہے اور کس گہرائی میں ڈوب رہی ہے۔ سنو! یہ فرد کا نہیں پوری امت کا مسئلہ ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ ہم اس مسئلے کے سامنے ایسے کھڑے ہیں جیسے اس سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں!۔۔۔۔

غیر مسلم قومیں اپنے نوجوانوں کے لیے تربیتی نظام بناتی ہیں، کردار سازی کے کورس چلاتی ہیں، ذہن سازی کے کیمپ چلاتی ہیں، ان کی سوچ کو مضبوط کرتی ہیں، ان کے سوالوں کا جواب دیتی ہیں، ان کی عملی زندگی کے اصول سکھاتی ہیں۔ وہ نسل کو چھوڑ نہیں دیتے۔

لیکن ہم؟ ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں، کوئی نصاب نہیں، کوئی تربیتی ڈھانچہ نہیں، کوئی سمت نہیں۔ ہم محض واقعات کا ماتم کرتے ہیں کچھ دن چرچا ہوتا ہے پھر خاموشی چھا جاتی ہے اور دوسرے حادثے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ اب یہ خاموشی ہمارے لیے تباہی بن چکی ہے۔ یہ وقت صرف جذبات کا نہیں فیصلہ کرنے کا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی جامع تربیتی نظام نہ بنایا تو یہ نسل ہاتھوں سے یوں پھسلے گی جیسے ریت پانی میں گرتے ہی غائب ہو جاتی ہے۔۔۔

ہمیں ہر گاؤں میں ایک لازمی تربیتی کورس قائم کرنا ہوگا اور یہ کوئی آپشن نہیں یہ ضروری ہے اس امت کو بچانے کی آخری کوشش ہے۔

اس کورس میں ایمانیات ہوں تاکہ نوجوان جان سکیں کہ مسلمان ہونا ایک ذمہ داری ہے، شناخت ہے، امانت ہے۔۔۔

اسلامیات ہوں تاکہ دین محض چند رسومات نہ رہے بلکہ مکمل نظامِ حیات بن جائے۔۔۔۔

ان کے ذہن میں پیدا ہونے والے شبہات کا سائنسی، عقلی اور دلائل سے بھرپور جواب ہو تاکہ وہ کسی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

انہیں اسلام مخالف طاقتوں کی چالیں سمجھائی جائیں تاکہ وہ اپنی فکری حفاظت کر سکیں۔۔۔۔۔

انہیں بے داغ جوانی پڑھائی جائے تاکہ وہ جان سکیں کہ کردار ہی انسان کی اصل پہچان ہے۔

*اور سب سے بڑھ کر ازدواجی زندگی کی تربیت ہو* کیونکہ نکاح کرنے والے لڑکے اور لڑکیاں اصولوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ گھر کیسے بسایا جاتا ہے؟ رشتے کیسے نبھائے جاتے ہیں؟ اختلاف کیسے حل ہوتے ہیں؟ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو زندگی کو محفوظ بناتی ہیں لیکن ان کا علم نہ گھر دیتا ہے نہ معاشرہ۔

ہمیں یہ بات پورے زور کے ساتھ سمجھنی ہوگی کہ یہ نظام بنانا کوئی مشورہ نہیں یہ بقا کی شرط ہے۔ اگر ایسا تربیتی ڈھانچہ نہ بنا تو آنے والی نسل گم ہو جائے گی اور ہم کف افسوس ملتے رہ جائیں گے۔پھر ہم جتنی چاہیں تقریریں کرلیں، جتنے چاہیں فتاویٰ لکھ لیں، جتنے چاہیں نصیحتیں کرلیں تباہ شدہ نسل واپس نہیں آئے گی۔

ہمیں ابھی فیصلہ کرنا ہے ، ابھی قدم اٹھانا ہے، ابھی نظام بنانا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم حادثات پر رونے کے بجائے حادثات روکنے کا نظام کھڑا کریں۔

ورنہ تاریخ لکھے گی کہ ایک ایسی امت تھی جس کے پاس قرآن بھی تھا، علماء بھی تھے لیکن نظام نہیں تھا۔ اور وہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے ایک پوری نسل تباہ ہو گئی۔۔۔۔۔