*ایک IAS کی سوچ رکھنے والی لڑکی نے رکھا علم دین میں قدم*

یہ ہیڈ لائن صرف چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک روشن حقیقت کی آئینہ دار ہے یہ اس دل باصفا کی کہانی ہے جس نے زندگی کے میدان میں دنیاوی کامیابیوں کی بلند دیواروں کو بھی دیکھا اور دین کی روشن راہوں کو بھی پرکھا، یہ فیصلہ اُس لڑکی کا ہے جس کے ذہن میں بڑی سے بڑی منزلوں کے نقش تھے، مگر قلب میں ایک ہی پکار گونج رہی تھی اصل بلندی وہ ہے جو مجھے میرے رب کے قریب لے جائے۔

وہ لڑکی جو اپنی ذہانت، عزم اور محنت سے دنیا کے سب سے مشکل امتحانات میں بھی کامیابی حاصل کر سکتی تھی، اچانک ایک ایسے راستے کی طرف متوجہ ہوئی جہاں عہدے نہیں ملتے، مگر عزتیں ہمیشہ رہتی ہیں،جہاں سینوں پر تمغے نہیں لگتے، مگر دل نور سے بھر جاتے ہیں

جہاں فخر کا تاج نہیں ملتا، مگر عاجزی کا حسن نصیب ہوتا ہے، یہ لڑکی سمجھ گئی تھی کہ IAS کا عہدہ انسان کو دنیا میں مقام دیتا ہے،

مگر علم دین انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں سرفراز کرتا ہے۔

*یہ قدم سوچ کا انقلاب ہے*

اس نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس کے پیچھے کئی صدیوں کی علمی روایات، روحانی میراثیں اور ایمان کی خوشبو چھپی ہوئی ہے، یہ قدم بتاتا ہے کہ آج بھی کچھ دل ایسے ہیں جو صرف دنیا کی دوڑ میں نہیں لگے ہوئے، بلکہ وہ اپنی روح کے سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں، اس کی سوچ نے اسے یہ حقیقت سمجھا دی کہ دنیاوی علوم انسان کو مضبوط بناتے ہیں، مگر دینی علم انسان کو مکمل بنا دیتا ہے، دنیاوی علم طاقت دیتا ہے، مگر دین سمت دیتا ہے، دنیاوی تعلیم دروازے کھولتی ہے، مگر دین دل کھول دیتا ہے، وہ جان گئی تھی کہ اگر مقصد دنیا کی کامیابی ہو تو علم کافی ہے، مگر اگر مقصد دل کا سکون اور روح کی ہدایت ہو تو علمِ دین ضروری ہے۔

جب اس لڑکی نے علم دین میں قدم رکھا تو دراصل اس نے اپنے اندر کے سفر کا آغاز کیا، ایک ایسا سفر جس میں کتابیں صرف پڑھائی نہیں جاتیں بلکہ محسوس کی جاتی ہیں، جس میں ہر حرف اپنے معنی میں روشنی رکھتا ہے، جس میں استاد صرف پڑھاتے نہیں، بلکہ روحوں کو جگاتے ہیں،جس میں علم صرف ذہن نہیں بدلتا، بلکہ پوری زندگی کو نئی ترتیب دے دیتا ہے۔

اور مجھے خوب یاد ہے کہ جب امریکہ میں ڈاکٹرنی کے عہدے پر فائز انسان نے پھر Neet کا امتحان دے کر کامیابی حاصل کی تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس دو اتنے بڑے عہدے تھے جو میری امیج کو دنیاوی اعتبار سے کافی مضبوط بنائے ہوئے تھے کیونکہ پہلے میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی حیثیت کا حامل تھا پھر میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز ہوا اسکو چند سال تک کرتا رہا لیکن سکون میسّر نا ہو سکا لیکن پھر میں نے اللہ کی بارگاہ میں جاکر اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے، میں نے خدا سے کہا اے خدا دنیاوی اعتبار سے میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں لیکن پھر بھی سکون کیوں نہیں اتفاقاً اسی مسئلے کی جستجو میں، میری ملاقات ایک ایسے عالم صاحب سے ہوئی جو معرفت الٰہیہ کو حاصل کئے ہوئے تھے۔

میں نے ان سے بات کی اور کہا میں ایک ڈپٹی کمشنر(DC) ہوں اور ایک ایم بی بی ایس(MBBS) ڈاکٹر بھی اور مال و اسباب کی کوئی کمی نہیں لیکن مولانا صاحب سکون نہیں زندگی میں، آخر میں کیا کروں میں سکون چاہتا ہوں تو انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ کلام اللہ کو پڑھو اور اسکو سمجھو، میں نے کہا آپ مجھے پڑھا دو انہوں نے پڑھایا تو میں ایک طویل مدت تک کام کرتا رہا اور واقعی سکون ملنے لگا تھا اور جب وہ کسی آیت کے متعلق کہتے تھے کہ یہ سمجھنے کے لیے آپکو اصول پڑھنے ہوں گے تب میں نے اسکو پڑھنے کا فیصلہ کیا اور الحمد للہ میں اپنا کام کرتا اور قرآن پڑھتا، قرآن کریم آیات و رموز کو سمجھتا تو میں نے دیکھا میں جتنا پڑھا تھا قرآن پاک کی ایک ایک آیت اس سے زیادہ مجھے پڑھا چکی تھی اور میں ہر سوال کا جواب قرآن کریم سے حاصل کرنے لگا تھا اور پھر مجھے معلوم ہوا *اگر دینی تعلیم ہمارے پاس نہیں قرآن حدیث کا علم ہمارے پاس نہیں تو ہماری کوئی سی بھی تعلیم کیوں نہ ہو وہ ہمیں سکون نہیں عطا کر سکتی*


یہی مسئلہ اس لڑکی کے ساتھ بھی ہے اور وہ خود کو پہلے کبھی اتنا قریب حقیقت محسوس نہیں کرتی تھی جتنا اب کر رہی تھی، اس نے محسوس کیا کہ قرآن کے لفظ صرف تلاوت نہیں، وہ دل کی دھڑکنوں میں اترتے ہیں، حدیث کا ہر جملہ صرف علم نہیں، وہ کردار بن جاتا ہے، فقہ کی ہر بحث صرف معلومات نہیں، بلکہ زندگی کی رہنمائی ہے۔

قوم کی بیٹی، مستقبل کا چراغ ہے اس کا یہ قدم آنے والی نسلوں کے لیے پیغام ہے کہ عورت جب علم کی طرف بڑھے چاہے دنیاوی ہو یا دینی وہ معاشرے کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے، وہ اپنے فیصلے سے یہ حقیقت لکھ گئی کہ دین کسی کمزور ذہن کی پناہ نہیں، بلکہ مضبوط سوچ رکھنے والوں کی منزل ہے۔

یہ لڑکی ایک ایسی مثال بن گئی جو بتاتی ہے کہ دنیا اور دین دونوں کو ساتھ لے کر چلنا نہ صرف ممکن ہے، بلکہ خوبصورت بھی ہے، وہ اب وہ طالبہ نہیں رہی جو صرف کامیابی چاہتی تھی، وہ اب وہ بیٹی ہے جو کامیابی اور مقصد دونوں کو جانتی ہے، وہ صرف ایک خواب دیکھنے والی نہیں، وہ خوابوں کو صحیح سمت دینے والی ہے، وہ صرف دنیا نہیں چاہتی، وہ روشنی چاہتی ہے، ہدایت چاہتی ہے، رب کی رضا چاہتی ہے۔


*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*