❗ *فارغ ہونے کے بعد اصل علم کی تلاش*
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
دینی مدارس میں جب کوئی طالبِ علم درسِ نظامی مکمل کرتا ہے اور اسے دستارِ فضیلت باندھ دی جاتی ہے تو عام طور پر یہی سمجھ لیا جاتا ہے کہ اب تعلیم مکمل ہو گئی...
 مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمیت سے *`فراغت کے بعد ہی اصل تعلیم اور تحقیق کا سفر شروع ہوتا ہے...`*
درسِ نظامی تقریباً چھ یا سات سال کا ایک تعلیمی دور ہوتا ہے۔یہی درسِ نظامی دراصل طالبِ علم کو علومِ دینیہ کی بنیادی سمجھ عطا کرتا ہے اور آگے بڑھنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس دوران طالبِ علم کو مختلف علوم سے تعارف کرایا جاتا ہے۔ کہیں *تفسیر* کی جھلک دکھائی جاتی ہے، کہیں *حدیث* کا ذوق پیدا کیا جاتا ہے، کہیں *فقہ* کے اصول سمجھائے جاتے ہیں اور کہیں *تجوید و قراءت* کی بنیادی تعلیم دی جاتی ہے.... *درحقیقت درسِ نظامی طالبِ علم کو مختلف علومِ دینیہ سے متعارف کرا کے اس کے لیے آگے بڑھنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے...*
یعنی درسِ نظامی کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ہر فن میں مکمل مہارت حاصل ہو جائے، بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالبِ علم کو یہ معلوم ہو جائے کہ علم کے میدان کتنے وسیع ہیں اور کس راستے سے چل کر آگے بڑھنا ہے۔
اسی لیے جب طالبِ علم عالمیت سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے سامنے اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اب اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کا رجحان کس علم کی طرف زیادہ ہے۔ اگر کسی کو فقہ سے خاص شغف ہے تو اسے فقہ میں تحقیق کرنی چاہیے، اگر کسی کو حدیث سے محبت ہے تو اسے علمِ حدیث میں گہرائی پیدا کرنی چاہیے، اگر کسی کا ذوق تفسیر کی طرف ہے تو اسے اسی فن میں محنت کرنی چاہیے۔
*`علم کی دنیا میں مہارت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کسی ایک فن کو اپنا میدان بنا لے`* اور مسلسل اس میں تحقیق اور مطالعہ کرتا رہے۔ یہی طریقہ ہمارے اسلاف کا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگیاں علم کے ایک ایک شعبے میں لگا دیں، تب جا کر وہ اس فن کے امام بنے.....
*لیکن افسوس کی بات یہ ہے* کہ آج بعض جگہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ جب درسِ نظامی مکمل ہو جاتا ہے اور دستار بندی ہو جاتی ہے تو بعض لوگوں کی کتابیں بند ہو جاتی ہیں۔ انہیں یہ گمان ہو جاتا ہے کہ اب تعلیم مکمل ہو گئی ہے۔ اب نہ مطالعہ کی ضرورت ہے، نہ تحقیق کی...
بس نام کے ساتھ “عالم” یا “عالمہ” کا لقب لگ جانے کے بعد بعض لوگوں کے نزدیک تعلیم کا سلسلہ وہیں ختم ہو جاتا ہے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب مزید مطالعہ اور تحقیق کی ضرورت نہیں رہی۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ علم ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ درسِ نظامی اس سمندر کے کنارے تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے، لیکن اس میں غوطہ لگانا اور اس کے موتی نکالنا *فراغت کے بعد کی محنت* سے ممکن ہوتا ہے۔
اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استاذِ محترم *نبیرۂ صدر الشریعہ مفتی فیضان المصطفیٰ امجدی صاحب قبلہ* نے دورانِ درس یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ…
  طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ زندگی بھر علم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے اور مختلف علوم سے واقفیت حاصل کرے، مگر بالآخر اسے یہ ارادہ ضرور کر لینا چاہیے کہ *علمِ فقہ میں گہرائی حاصل کرے*۔ کیونکہ فقہ ایسا وسیع علم ہے جس میں حدیث، تفسیر، اصول اور دیگر معاون علوم سب کی ضرورت پیش آتی ہے۔ فقہ درحقیقت ایک وسیع سمندر ہے، اسی لیے جو شخص فقہ میں مہارت حاصل کرتا ہے اس کا تعلق دراصل تمام علومِ دینیہ سے مضبوط ہو جاتا ہے...
❗__لہٰذا ہر طالبِ علم اور طالبہ کو چاہیے کہ عالمیت کے بعد اپنی علمی زندگی کو ختم نہ سمجھیں بلکہ اسے علمی سفر کی ابتداء سمجھیں اور یہ ارادہ کریں کہ *علمِ فقہ سے مضبوط تعلق قائم کریں*۔ مسلسل مطالعہ، تحقیق اور سیکھنے کا شوق زندہ رکھیں۔ کیونکہ ایک حقیقی عالم وہی ہے جو زندگی بھر علم کا طالب رہتا ہے۔ اسی میں علم کی بقا ہے، اسی میں امت کی رہنمائی ہے اور اسی میں دین کی صحیح خدمت پوشیدہ ہے...

*اسی پیغام کو ڈاکٹراقبال نے نہایت خوبصورت انداز میں اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہےکہ:*

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیان اور بھی ہیں


اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں علمِ دین کو اخلاص کے ساتھ حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسے آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے علم کو ہمارے لیے اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے نافع بنائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲🏻
~~~~~~~~~~~~~~~
*از: صغریٰ انجمؔ حنفى*
تاریخ: 26-03-16
 وقت:08:08 صبح