26 روز سے بند مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کا منصوبہ؟

قابض اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور سیکورٹی بہانوں کو جواز بنا کر مسلسل 26 روز سے مسجد اقصیٰ کو بند رکھا ہے اور وہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ اس بار 59 سال بعد وہاں نماز عید بھی نہ ہوسکی۔ القدس شہر میں سخت ترین سیکورٹی اقدامات نافذ ہیں اور پرانے شہر کی گرد و نواح میں مکمل ناکہ بندی کی گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث فلسطینی شہری، سوائے مستقل رہائشیوں کے، مسجد تک رسائی سے محروم ہیں، جس نے ہزاروں افراد کو سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس بندش سے نہ صرف عبادت متاثر ہوئی بلکہ روزمرہ زندگی، تعلیمی سلسلہ اور معاشی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔*
قابض فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور فوجی رکاوٹوں نے پرانے شہر تک پہنچنا تقریباً ناممکن بنا دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر صہیونی شدت پسندوں نے ایک مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار شدہ ویڈیو کلپ میں قبۃ الصخرہ کو دھماکے سے اڑانے کا منظر دکھایا، جس سے اسلامی مقدسات کے خلاف بڑھتی ہوئی سفاکیت اور اشتعال انگیزی کے خدشات پیدا ہوئے۔
اسرائیلی سیاستدانوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنایا۔ موشے فیگلین نے مسجد اقصیٰ کی بندش کو اسرائیل کی طاقت اور علاقائی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا، جبکہ ایتمار بن گویر نے فلسطینیوں کو نماز سے روکنے کے مناظر جاری کرتے ہوئے سخت سیکورٹی اقدامات کی حمایت کی۔ ینون میگال نے بالواسطہ طور پر مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے کی خواہش ظاہر کی اور باروخ مارزل نے مصنوعی تصویر شیئر کی جس میں مسجد اقصیٰ کے نیچے ایئر بیس دکھایا گیا، جسے بڑے پیمانے پر اشتعال انگیز اقدام قرار دیا گیا۔
مسجد اقصیٰ کی یہ بندش خاص طور پر رمضان المبارک اور نماز عید الفطر کے دوران ہوئی، جو صدیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا واقعہ ہے۔ فلسطینی نیشنل کونسل نے خبردار کیا ہے کہ “ٹیمپل ماؤنٹ” نامی تنظیمیں اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر اس بندش کو مارچ کے آخر تک طول دینے اور ایسٹر کے موقع پر کھولنے کے منصوبے بنا رہی ہیں، تاکہ مذہبی اور جغرافیائی حقائق کو اپنے مفاد کے مطابق مسلط کیا جا سکے۔ فلسطینی حلقوں کے مطابق مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش سکیورٹی بہانوں سے کہیں زیادہ ہے اور یہ صہیونی سازش کا حصہ ہے، جس کے ذریعے زمانی اور مکانی تقسیم کے ایجنڈے کو نافذ کیا جا رہا ہے۔
مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حوالے سے اسرائیل کے سابق اسپیکر ابراہام برگ نے امریکی صحافی ٹکر کارسن کو دیئے گئے تازہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ 1967 کے بعد کم از کم پانچ مرتبہ یہ کوشش کی گئی کہ مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کو دھماکوں کے ذریعے تباہ کیا جائے۔ برگ کے مطابق یہ منصوبے ریاستی پالیسی کے تحت نہیں بلکہ انتہا پسند یہودی گروہوں کی جانب سے کیے گئے، جو ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ برگ نے وضاحت کی کہ اصل خطرہ ان گروہوں سے ہے جو عملی اقدام کے لیے تیار ہیں، اور تعداد سے زیادہ ان کی شدت پسندی اور منصوبہ بندی تشویشناک ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے قبلہ اول اور قبۃ الصخرہ سے منسلک تاریخی اور مذہبی مقام ہے، اور اس کی ہر کارروائی مسلم دنیا کے جذبات، عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق پر اثر ڈالتی ہے۔ 1967 کے بعد سے یہ مقام سیاسی، مذہبی اور سفارتی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اسرائیلی انتہا پسند گروہوں کے “ٹیمپل ماؤنٹ” کے نظریے کے تحت ہیکل کی دوبارہ تعمیر کی کوششیں جاری ہیں، جس سے کشیدگی اور اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سوشل میڈیا پر بھی بیانیے کی جنگ جاری ہے۔ فلسطینی حلقے اسے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی اور تاریخی ورثے کی پامالی قرار دیتے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام اسے سکیورٹی ایشو اور امن و امان کے لیے ضروری اقدامات قرار دیتے ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر ویڈیوز، پوسٹس اور مصنوعی تصاویر سے عوامی رائے متاثر کی جا رہی ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہیں تو کئی خطرات سامنے آ سکتے ہیں، جن میں مذہبی تصادم، علاقائی جنگ، بین الاقوامی دباؤ، شدت پسند گروہوں کی مزید تقویت، اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر مستحکم صورتحال شامل ہیں۔
مسجد اقصیٰ سے متعلق یہ حساس اور نازک حالات واضح کرتے ہیں کہ اس مقام کی حفاظت صرف ایک مذہبی یا تاریخی مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی امن، انسانی حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی سے بھی جڑا ہے۔ تمام فریقوں پر لازم ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنائیں۔ یہ مقام صرف ایک عمارت نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے ایمان، تاریخ اور شناخت کا حصہ ہے، اور اس سے جڑی ہر خبر عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ (الجزیرہ: