زمانہ ایک ایسی کروٹ لے چکا ہے کہ گویا صدیوں کا فاصلہ لمحوں میں طے ہو گیا ہو۔ حالات نے ایسی برق رفتاری سے رخ بدلا ہے کہ انسان اپنی اصل پہچان ہی بھول بیٹھا ہے۔ کبھی یہی انسان طلوعِ سحر کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک جاتا، لبوں پر درودِ پاک سجائے دن کا آغاز کرتا اور غروبِ آفتاب تک یادِ الٰہی کی خوشبو میں مہکتا رہتا تھا۔
مگر آج منظر یکسر مختلف ہے۔ دلوں کی دنیا ویران اور روحیں پژمردہ ہو چکی ہیں۔ ذکر و فکر کی محفلیں اجڑ گئیں اور ان کی جگہ سکرینوں کی چمک نے لے لی۔ اب آنکھ کھلتے ہی ہاتھ موبائل کی طرف بڑھتا ہے، اور یوں لگتا ہے جیسے وقت کا دریا سوشل میڈیا کی نذر ہو کر بے رحم موجوں میں ڈوب جاتا ہے۔
یہ روش محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک خاموش زوال ہے، جو انسان کو اس کی اصل کامیابی سے کوسوں دور لے جا رہا ہے۔ وہ کامیابی جو کبھی اللہ کی رضا میں سمٹ آئی تھی، اب دنیا کی چکاچوند میں کہیں گم ہو چکی ہے۔
اگر ہم نے اب بھی خود کو نہ سنبھالا تو یہ غفلت ہمیں اندھیروں کی ایسی کھائی میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی محال ہو جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو پھر سے نورِ ایمان سے منور کریں، اپنے معمولات کو سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھالیں، اور قرآنِ حکیم کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں۔
یقین جانیے! یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف دلوں کو سکون کی انتہا تک پہنچاتا ہے بلکہ انسان کو ایسی کامیابی عطا کرتا ہے جو زمانے کی ہر چمک کو ماند کر دیتی ہے۔
عروہ جی