(48)مضمون

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

"سیاست کا ماتم نہیں، قیادت کی تلاش ہے — اویسی اور ہم"

      تمہید

ہمارے ملک کے سیاسی منظرنامے میں جب بھی مسلم قیادت کی بات ہوتی ہے، ایک نام جو سب سے نمایاں ابھرتا ہے وہ ہے بیرسٹر جناب اسدالدین اویسی صاحب ۔ ان پر تنقید بھی ہوتی ہے، اور تحسین بھی۔ بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اویسی صاحب کی وجہ سے مسلم اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے۔ سرِ تسلیم خم، اگر یہ اعتراض درست ہے تو اعتراض کرنے والوں سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کا متبادل کون ہے؟ کیا ملک بھر میں کوئی دوسرا ایسا خودمختار، بے باک، باصلاحیت مسلم لیڈر موجود ہے جو مظلومین کی آواز بن سکے؟

آج جو لوگ اویسی صاحب پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ ایک ایسا قومی سطح کا مسلم لیڈر پیش کریں جو پارٹی سطح پر آزاد ہو، جس کی بات عوام تک پہنچے، اور جو ظلم و ناانصافی کے خلاف مؤثر آواز اٹھائے۔ اگر ایسا کوئی وجود نہیں، تو پھر تنقید برائے تنقید کا کیا حاصل؟

نقد ضرر پیدا کرتی ہے اگر وہ حکمت پر مبنی نہ ہو اور اصلاح کی نیت سے نہ کی جائے، ورنہ یہ صرف بدگمانی کو عام کرتی ہے۔ اختلاف ہے تو اسے مخصوص افراد تک محدود رکھا جائے، اور بہتر ہے کہ دارالسلام حیدرآباد میں جا کر خود اسدالدین اویسی صاحب سے مکالمہ کیا جائے۔ گفتگو بہرحال تحریری تنقید سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔

سیاست کا جائزہ خالی الذہن ہو کر لیجیے

یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ایم آئی ایم کی وجہ سے بعض حلقوں میں نقصان ہوا۔ مگر کیا اثرات کا بوجھ صرف اسی پر ڈال دینا انصاف ہے؟ الیکشن میں آزاد امیدواروں کے نام پر میدان میں اترنے والے ایسے کتنے ہی مسلم لیڈر ہیں جن کی عوامی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کی وجہ سے جو نقصان ہوتا ہے، کیا ان پر بھی 

کوئی رسالہ لکھا گیا؟

اور خود ایم آئی ایم کو RJDاور کانگریس کی وجہ سے بعض سیٹوں پر نقصان ہوا اس پر کیا لکھیں گے اور بولیں گے؟ اس لیئے مشورہ ہے 

 سیاست کا مطالعہ انصاف اور خالی ذہن کے ساتھ کیجیے، تب کہیں جا کر حقیقت سامنے آئے گی۔

اور یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ اگر ایم آئی ایم کے حصہ لینے سے کسی پارٹی کو نقصان ہوتا ہے، تو وہ پارٹیاں اویسی صاحب کو اپنے ساتھ شامل کیوں نہیں کرتیں؟ کیا یہ ان کی اپنی تنگ نظری نہیں؟ کیا وہ جماعتیں اپنی شکست کا پورا بوجھ خود پر لینے سے کتراتی نہیں؟ اگر سلسلہ وار تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ نقصان یا فائدہ ایک فریق کی نہیں، بلکہ مجموعی سیاسی عمل کی پیداوار ہے۔

انقلاب اکثریت سے نہیں، قیادت سے جنم لیتا ہے

یہ بہت سننے میں آتا ہے کہ مسلمان اقلیت میں ہیں، اس لیے وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انقلاب اکثریت کا محتاج نہیں ہوتا۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے زندہ گواہ ہیں کہ تبدیلی ہمیشہ مضبوط قیادت اور پختہ نظریے کے ذریعے آتی ہے، نہ کہ صرف اعداد و شمار سے۔

لہٰذا ذمہ داری قوم کی ہے کہ وہ کسی بھی سچے، نڈر اور اصولی قائد کا ساتھ دے، اس کے ہاتھ مضبوط کرے، بجائے اس کے کہ اسے تنہا چھوڑ دیا جائے یا اس کی چھوٹی سی لغزش کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔

   اختتامیہ

آخر میں عرض ہے کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ "سارا نقصان اویسی کی وجہ سے ہوا"، تو یہ سوال بھی زندہ رہنا چاہیے کہ دوسری پارٹیاں انہیں اپنے اتحاد میں شامل کیوں نہیں کرنا چاہتیں؟ کیا یہ ان کی اپنی کوتاہی نہیں؟ اگر وہ واقعی مسلم اتحاد کی فکر مند ہوتیں، تو انہیں اویسی جیسی آواز کو اپنے دائرے میں شامل کرنے میں کیا تامل تھا؟

محترم قارئین! ذرا ہوش کے ناخن لیجیے، سیاست کو ذاتی پسند. ناپسند اور محدود تجزیوں کی بجائے وسیع تر سیاسی شعور، عدل اور حکمت تلے پرکھیں۔

یہ تحریر اس نیت سے لکھی گئی ہے کہ بحث کو مثبت سمت ملے، شعور بیدار ہو، نہ کہ انتشار بڑھے

   واللہ المستعان

  بقلم محمودالباری

mahmoodulbari342@gmail.com