ایک مسلمان بمقابلہ مرزائی کافر 

آج سے برسوں پہلے کنری سندھ میں ایک مسلمان لوہار کی دکان پر ایک مرزائی آگیا۔ اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کی مدح و توصیف شروع کردی اور کہا کہ مرزا قادیانی تمام نبیوں کا سردار تھا۔ مسلمان لوہار دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کرتا رہا۔ جب مرزائی مبلغ کی تبلیغ کرتے کرتے منہ میں جھاگ تیرنے لگی تو مسلمان نے کلہاڑی لہرا کر مرزا قادیانی کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور مرزائی سے مطالبہ کیا کہ جو گالیاں مرزا قادیانی کو میں نے دی ہیں، تم بھی دہراتے چلو تاکہ سبق یاد ہوجائے۔

مرزائی ڈر کے مارے گفتنی و ناگفتنی ان گالیوں کی گردان مرزا قادیانی کو سنانے میں مسلمان لوہار سے بھی چند قدم آگے۔ 

اب مسلمان نے وہ تیز دھار کلہاڑی مرزائی کے ہاتھ میں تھمادی اور گردن جھکا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ آپ مجھ سے یہ مطالبہ کریں کہ میں (نعوذ باللہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کروں ۔

یہ کہہ کر مسلمان لوہار رَو پڑا کہ میں مرجاﺅں گا، ٹکڑے ٹکڑے ہونا قبول کرلوں گا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔


دلیل صداقت:

یہ کہہ کر مسلمان لوہار اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ مرزائی مبلغ صاحب ! آپ کے اور ہمارے سچے جھوٹے ہونے کی یہی دلیل ہے۔ سچے ہی کی توہین ناقابل برداشت، جھوٹے کی جتنی توہین کیے جاﺅ، اس جھوٹے کے ماننے والوں پر اس کا اثر نہ ہوگا۔“
 
خلاصہ ۔۔۔۔۔۔۔
سچ نجات دلاتا ہے جھوٹ ہلاک کر دیتا ہے