بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ،
، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ دین خیر خواہی کا نام ہے ۔‘‘ ہم ( صحابہ رضی اللہ عنہم ) نے پوچھا : کس کی ( خیر خواہی ؟ ) آپ نے فرمایا :’’ اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانوں کی ( خیر خواہی ۔ ) ‘‘
مسلم شریف
آج کی امت مسلمہ کی حالت بے دینی بے عملی محکومی مظلومی کو دیکھ کر ایک فکر سی ہوتی ہیں ایسے میں قرآن مجید کی آیت *۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالٰی نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے13:11*
سے ایک بات سمجھ میں آتی ہے کے ہم اپنے دلوں کی حالت بدلیں ۔
ہمارے آقا رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر ایمان والوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے ان کی ہدایت کی دعائیں مانگی ہے ۔ ان غیر ايمان والوں کی جو جان مال اور یہاں تک کے ایمان کے دشمن تھے۔ ان کی خیر خواہی کی ہے جب کہ آج کے عام مسلمانوں کی حالت یہ ہے کے ہم ان کے لئے دعا تو نہیں کرتے بلکہ کبھی کبھی بد دعا کر دیتے ہیں ۔ اور بہت سی بد خواہی ہمارے دلوں میں ہیں جیسے ظالم مٹ جاءیں وہ حلاک ہو جہنم واصل ہو انکی حکومت چلی جاءے وغیرہ۔ یعنی ہمارے دلوں میں انکی بد خواہی ہے۔
۔ ۔ گویا ہم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےعمل کے اور ان کی دعا کے خلاف چاہت رکھتے ہیں ۔عام اور خواص ہر مسلمان غیر مسلمانوں کی خیر خواہی اپنے دل میں رکھے اور اپنی حالت کو بدلے تو اللہ تعالی ہماری حالت بدل دے ایسی امید ہے۔ مسلمانوں کے دل میں غیر ایمان والوں کی بھلاءی کی چاھت ہو یہی مسلمانوں کے لیے بہتر ہے۔اس لیے ایک عمل سمجھ میں آیا کے اکثر علما اکرام جو اجتماعی دعاءیں کرتے ہیں اردو یا علاقاعی ذبان میں انھی دعااوں سے عام مسلمان رعا کرنا سیکھتے ہیں ۔اگر علما کرام اپنی اجتماعی دعاآوں میں غیرمسلمانوں کے لیے انکے سرداروں کے لیے نام لیکر رعاءیں کرنے لگے۔شریعت کی اجازت کے مطابق تو ضرور سب مسلمان یہ عمل انفرادی بھی کرنے لگے ۔ اور غیر مسلمانوں کی خیرخواہی ہمارے دلوں میں آجائے ۔جو ہماری حالت بدلنے میں مددگار و معاون ثابت ہو ۔اللہ تعالی ہم سے راضی ہو جائیں ۔۔ اور ہماری بے دینی ،محکومیت،مظلومیت
دور ہوجاے ۔
عرفان