*اپنے بچوں کا IQ چیک کرو اور انہیں اس کے مطابق پلیٹ فارم دو*
دنیا بدل رہی ہے، مقابلہ سخت ہو رہا ہے، اور کامیابی کی دوڑ میں وہی آگے نکلتے ہیں جنہیں ان کی فطری صلاحیت، ذہنی سطح اور ذہانت کے مطابق تربیت اور پلیٹ فارم ملتا ہے، ایسے دور میں یہ جملہ محض ایک مشورہ نہیں، بلکہ والدین کے لیے زندگی بدل دینے والی حکمت ہے، *اپنے بچوں کا IQ چیک کراؤ* اور انہیں اس کے مطابق پلیٹ فارم دو، یہ سوچ اس اصول پر قائم ہے کہ ہر بچہ ایک الگ دنیا ہے، اس کی ذہنی بناوٹ، اس کا سیکھنے کا انداز، اس کی رفتار، اس کے شوق اور اس کی طاقتیں سب الگ ہوتی ہیں، کوئی بچہ حساب میں تیز تو کوئی زبان میں، کوئی تخلیقی تو کوئی قائدانہ ذہانت رکھنے والا، کوئی کھیل میں ماہر تو کوئی مشاہدے میں، غلطی والدین تب کرتے ہیں جب سب بچوں کو ایک ہی پیمانے، ایک ہی نصاب اور ایک ہی فریم میں فِٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، نتیجہ یہ کہ بچے کی اصل صلاحیت دب جاتی ہے، اعتماد مجروح ہوتا ہے اور اس کی اندرونی روشنی بجھنے لگتی ہے۔
IQ یعنی Intelligence Quotient وہ پیمانہ ہے جو بتاتا ہے کہ بچہ سوچتا کیسے ہے، مسئلے کیسے حل کرتا ہے، یادداشت کیسی ہے، تجزیہ کتنی تیزی سے کرتا ہے، اور نئی چیزیں سیکھنے کی رفتار کیسی ہے، IQ کا تعلق مذہب، قوم، زبان یا قبیلے سے نہیں، اس کا تعلق ماحول، تربیت، توجہ، تعلیم اور خوراک سے ہے،جب والدین اپنے بچے کو IQ جان لیتے ہیں تو یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ بچہ کون سا راستہ جلد سیکھ سکتا ہے، اسے کس طرح کا تعلیمی ماحول چاہیے، کون سی سرگرمیاں اسے نکھار دیں گی اور کس فیلڈ میں اس کا مستقبل روشن ہے،دنیا کے کامیاب ممالک فن لینڈ، جاپان، ملائیشیا، ترکی ان سب کے تعلیمی نظام اس اصول پر قائم ہیں کہ بچے کو اس کی ذہانت کے مطابق پلیٹ فارم دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ وہاں کے بچے تھکتے نہیں، دباؤ میں نہیں آتے، وہ اپنی فطری صلاحیت کے مطابق چلتے ہیں اور چمک جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے یہاں اکثر بچے اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ ہم انہیں ان کی ذہنی ساخت کے خلاف راستہ تھما دیتے ہیں، نتیجہ میں کارکردگی کم ہوتی ہے، ذہن دباؤ میں آتا ہے، اور بچہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتا ہے،حالانکہ وہ کمزور نہیں ہوتا، بلکہ غلط راستے پر ہوتا ہے۔
بچوں کی ذہانت عام طور پر مختلف اقسام میں تقسیم کی جاتی ہے:
Logical–Mathematical IQ سائنس، ریاضی، انجینئرنگ۔
Linguistic IQ زبان، تقریر، لکھائی، مذہبی علوم۔
Creative IQ ڈرائنگ، آرٹ، ڈیزائن، تخلیق۔
Social IQ قیادت، گفتگو، مینجمنٹ۔
Spatial IQ نقشہ، ڈیزائن، انجینئرنگ خاکے۔
Kinesthetic IQ کھیل، ہنرمندی، فنی کام۔
Musical IQ آواز، نعت، تلاوت، ساز۔
ہر بچہ ان میں سے کسی نہ کسی جگہ قدرتی طور پر مضبوط ہوتا ہے، اسے اسی راستے پر لگا دینے سے وہ معمولی سے معمولی بچہ بھی غیر معمولی کامیابی حاصل کر لیتا ہے
IQ چیک کرنے کا بہترین وقت 7 سے 12 سال کے درمیان ہے، کیونکہ اس عمر میں فطری صلاحیت واضح بھی ہوتی ہے اور درست بھی، 4–6 سال میں ابتدائی رجحان سامنے آ جاتا ہے، اور 13–17 سال میں مستقبل کے فیصلے بہتر طریقے سے لیے جا سکتے ہیں۔
*پلیٹ فارم دینے کے لیے چند عملی اصول بہت اہم ہیں* بچے کو روزانہ کتاب کی عادت، سوال پوچھنے کی آزادی، دماغ کو طاقت دینے والی غذائیں (انڈا، دودھ، بادام، اخروٹ)، ذہنی کھیل جیسے Rubik Cube، شطرنج، پزل؛ موبائل کم، تخلیق زیادہ یہ سب بچے کا IQ مضبوط بناتے ہیں، سب سے بڑھ کر، اس کے شوق کو برا کہنا یا دبانا مت، شوق وہ اشارہ ہے جو اللہ نے بچے کے دل میں رکھا ہے تاکہ وہ اسی راستے پر چلے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے۔
یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ جب ہم اپنے بچوں کو انکے IQ لیول کے مطابق پلاٹ فارم نہیں دیتے تب ہمارے بچے کسی بھی پلاٹ فارم پر کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں، اسکو لوجیکل اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے،ایک انسان ہے جو سبزی پسند نہیں کرتا،جب کہ وہ بھی کھانا ہے،لیکن بچہ جسمی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتا، سوال یہ ہے کیوں جسمی طور پر وہ مضبوط نہیں ہو سکتا،تو جواب صاف ہے کہ اسکے مطابق کھانا نہیں، اس میں کوئی شک نہیں اس سے پیٹ بھر سکتا ہے لیکن اس سے مضبوطی اس لیے نہیں آ سکتی کہ وہ اسکے مطابق نہیں، یہی مسئلہ اسکو پلاٹ فارم دینے میں بھی ہے،جب مطابق پلاٹ فارم نہ دیا جائے،بچہ ممکن ہے کہ کامیاب ہو جائے لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکتا جس کا وہ اہل ہے،جیسی قدرتی طور یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے، جس خصوصیت کے ساتھ اللہ نے اسے ہر انسان سے ممتاز رکھا ہے،میری گزارش ہے اپنے بچوں کو انکے IQ لیول کے مطابق پلاٹ فارم دیں۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں،بچے کی کامیابی IQ میں نہیں IQ کے مطابق صحیح پلیٹ فارم میں ہے،اگر ہم بچوں کو ان کی ذہانت کے مطابق راستہ دیں، نہ ان کے خلاف، تو یہی بچے کل کے بڑے سائنسدان، علماء، لیڈر، ریسرچرز، مفکر اور بہترین انسان بن سکتے ہیں،بچہ کمزور نہیں ہوتا،ہم اس کی اصل طاقت کو پہچاننے میں دیر کر دیتے ہیں، یا پہچان ہی نہیں پاتے،یہی وجہ ہمارے اکثر بچے مزدور ہوتے ہیں، خدا کے لیے اس چیز پر توجو دیں اور اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن کریں،اللہ کریم سمجھنے سوچنے کی طاقت عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*