حضرات انبیاء علیہم السلام ہی فی الحقیقت حق تعالیٰ کی شانِ خالقیت و کریمیت کو پوری طرح سمجھتے ہیں۔ وہ مانگتے بھی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتے ہیں۔ فریاد بھی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی سے کرتے ہیں۔ کسی مصیبت کی شکایت بھی کرتے ہیں تو دربار خدا وندی ہی میں کرتے ہیں۔ ہر چیز میں اللہ تعالی ہی سے رجوع کرتے ہیں۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ سب کو معلوم ہے کہ انہیں بیٹا مانگنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ ان کی نبوت کا مشن آگے چلے اور بڑھے تو اللہ تعالی سے بیٹا مانگا کس طرح مانگا؟ اس مانگنے کو حق تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورہ مریم میں نقل فرمایا، در اصل مانگنا بھی ہر کسی کا کام نہیں ہے۔ مانگنے کا ڈھنگ بھی حقیقتہ انبیاء علیہم السلام ہی کو آتا ہے۔ اس کے بتلانے ہی سے دوسروں کو آتا ہے۔

غرض حضرت زکریا علیہ السلام نے بیٹا مانگا اور اس ڈھنگ سے مانگا کہ رحمت خداوندی جوش میں آئی ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے دعا کو قبولیت سے نوازا۔ اور اس ڈھنگ پر اتنا پیار آیا کہ وہ دعا آنے والی نسل کے لئے سبق زندگی بنا کر قیامت تک کے لئے قرآن کریم میں محفوظ کر دی گئی، واقعی اس طرح سے مانگنے کا ان ہی کو حق تھا، دوسرے تو اس طرح سوچ بھی نہیں سکتے۔ فرمایا: "اذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا ( سورۃ مریم) یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے چپکے چپکے اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے مانگنا شروع کیا اور چھپی آواز میں اولا د طلب کی جس کو وہ سنتے تھے اور ان کا اللہ تعالی سنتا تھا، کسی دوسرے کو اس کی خبر نہیں تھی ۔ معلوم ہوا کہ مانگنے کا پہلا ادب تو یہ ہے کہ آدمی زیادہ چلا کر نہ مانگے۔ فرمایا: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ( سوره اعراف) یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے دعائیں کرو چپکے چپکے اور آہستہ آہستہ۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے بھی آہستہ آہستہ مانگنا شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آداب کے ساتھ دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے آمین