زندگی کا سفر بظاہر نہایت سادہ محسوس ہوتا ہے—دن گزرتے ہیں، راتیں ڈھلتی ہیں، لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ مگر بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جو محض ساتھ رہنے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ انسان کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بابا بھی انہی بامعنی رشتوں میں سے ایک تھے۔ ان کی موجودگی صرف ایک تعلق نہیں تھی، بلکہ ایک عمیق احساس تھی—تحفظ کا، اعتماد کا، اور بے لوث محبت کا۔
بابا کو ہم سے جدا ہوئے ابھی چند ہی دن گزرے ہیں، مگر دل اب تک اسی لمحۂ جدائی میں ٹھہرا ہوا ہے۔ وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اندر کی دنیا جیسے ساکت ہو گئی ہو۔ راتیں غیر معمولی طور پر طویل اور بوجھل محسوس ہوتی ہیں، اور ہر لمحہ ایک انجانی سی خاموشی میں لپٹا ہوا ہے۔ زبان اس حقیقت کو تسلیم کر لیتی ہے کہ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر دل اب تک اسے قبول کرنے سے انکاری ہے۔
ان کی موجودگی میں ایک عجیب سا اطمینان تھا—جیسے ہر مشکل آسان ہو جائے گی، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
ان کا اندازِ گفتگو، ان کی شفقت بھری نصیحتیں، اور ان کا خاموش سہارا—یہ سب ایک مضبوط حصار کی مانند تھے، جس کے اندر ہم خود کو ہر خوف سے محفوظ پاتے تھے۔ آج جب وہ حصار باقی نہیں رہا، تو زندگی کی دھوپ کچھ زیادہ ہی تیز محسوس ہونے لگی ہے۔
گھر کی فضا بھی بدل چکی ہے۔ وہی دیواریں، وہی دروازے، وہی راستے… مگر ان سب میں جیسے زندگی کی رمق مدھم پڑ گئی ہو۔ پہلے جو آوازیں سکون بخشتی تھیں، اب وہی خاموشی دل پر بوجھ بن جاتی ہے۔ ان کی نشست، ان کی مسکراہٹ، ان کی آواز—سب کچھ ذہن کے دریچوں میں ابھرتا ہے، اور پھر ایک گہری خاموشی دل کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
لوگ تسلی دیتے ہیں کہ وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، مگر کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا دکھ وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتا ہے، مگر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ بس انسان اسے اپنے وجود کا حصہ بنا کر جینا سیکھ لیتا ہے۔
بابا ہمارے لیے ہر خوشی میں شامل، ہر مشکل میں سہارا، اور ہر الجھن میں رہنمائی کرنے والے تھے۔ ان کی نصیحتیں، ان کی دعائیں اور ان کا اندازِ محبت—یہ سب اب ہماری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
وہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں ان کی کمی ہر لمحہ شدت سے محسوس ہوتی ہے—اور شاید ہمیشہ ہوتی رہے گی مگر ان کی محبت اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی؛ وہ ہماری زندگی کا وہ حصہ ہیں ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا
دل کو اب یہی سہارا ہے کہ وہ ربِّ کریم کی رحمتوں کے سائے میں ہیں—اس ذات کے پاس جو اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔
"اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ"
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَاجْعَلْ قَبْرَهُ رَوْضَةً مِّن رِّيَاضِ الْجَنَّةِ، وَارْفَعْ دَرَجَاتِهِ فِي الْعَالِيْنَ، وَاجْمَعْنَا بِهِ فِي الْجَنَّةِ۔ آمین
(اے اللہ! ان کی مغفرت فرما، ان پر رحم فرما، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرما، اور ہمیں جنت میں ان کے ساتھ جمع فرما۔ آمین)
اور شاید یہی زندگی کی حقیقت ہے کہ کچھ لوگ ہم سے بچھڑ کر بھی کبھی جدا نہیں ہوتے۔ وہ ہمارے دلوں میں، ہماری یادوں میں، اور ہمارے ہر احساس میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں—یادوں کے نرم اور مہربان سائے بن کر♡
وقت گزر جاتا ہے، مگر کچھ احساسات وہیں ٹھہرے رہتے ہیں۔
اپنوں کی موجودگی کو معمولی نہ سمجھیں، یہی اصل نعمت ہے۔
ان کی قدر کریں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔
کیونکہ جدائی کے بعد صرف یادیں رہ جاتی ہیں… اور ایک خاموش سا خلا۔ 🤍
ازقلم: فاطمہ ابوالکلام 🥀