نومبر دیہات کے دل کی دھڑکن


✍🏻 محمد پالن پوری

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

نومبر کی سرد رات دیہات میں کسی داستان کی پہلی سطر ہوتی ہے۔آسمان دور تک سیاہ مخمل کی طرح تنا ہوا، ستارے یوں چمکتے جیسے کسی نے ٹھنڈی ہوا میں نمک چھڑک دیا ہو۔ صحنوں میں لکڑیوں کی آگ دہکتی ہے، سرخ شعلے کبھی بلند ہوتے تو کبھی سمٹ کر راکھ میں چھپ جاتے اور ان کے گرد بیٹھے لوگ ہاتھ پھیلا کر حرارت چنتے ہیں۔ دھواں آہستہ آہستہ اوپر اٹھتا ہے مگر ٹھنڈی ہوا اسے سیدھا ہونے نہیں دیتی وہ ہچکولے کھاتا ہوا آسمان تک جاتا ہے جیسے سفر میں کسی نے کندھا چھو لیا ہو۔۔۔۔۔

ایسے وقت دیہاتی گپ شپ نہیں کرتے بلکہ قصے سناتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ پچھلے سال کی سردی اس سے بھی کڑی تھی، کوئی پرانی کھیتی کے حالات چھیڑ دیتا ہے اور کسی کی باتوں میں بچپن کی شوخیاں شامل ہو جاتی ہیں۔ کمبل اوڑھے بزرگ جب ہنستے ہیں تو آواز دور تک سنائی دیتی ہے جیسے اس خالی کھیتوں والے علاقے میں کوئی گرم لہر دوڑ گئی ہو۔ بچے پاس بیٹھے جوتے اتار کر پاؤں آگ کے قریب کرتے ہیں پھر اچانک کھینچ لیتے ہیں کیونکہ شعلہ شرارت سے زیادہ گرم ہے۔۔۔۔۔

رات گہری ہوتی ہے لیکن دیہات کی سردی میں عجیب سکون ہوتا ہے خاموشی میں بھی ایک مانوس دھڑکن۔ کہیں دور کہیں کتے بھونک رہے ہیں، کہیں سے بیلوں کے قدموں کی آہٹ آتی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود آگ کے گرد بیٹھے لوگ یوں محسوس کرتے ہیں جیسے سارا جہان اسی حلقے کے اندر سمٹ آیا ہو۔

اور پھر صبح! نومبر کی دیہی صبح تو جیسے رحمت کا ہاتھ ہو۔ دھند پورے گاؤں پر سفید چادر کی طرح چھائی ہوتی ہے، درختوں کے پتوں پر شبنم کے موتی چمکتے ہیں اور سانس لینے سے لگتا ہے جیسے پھپھڑوں میں ٹھنڈا عطر بھر گیا ہو۔ مرغ کی بانگ دور سے آتی ہے اور اس کی آواز دھند میں یوں گونجتی ہے جیسے کسی نے صبح کے دروازے پر دستک دی ہو۔ لوگ کمبلوں سے نکل کر دروازے کی دہلیز پر کھڑے ہوتے ہیں، ہاتھ بغلوں میں دبائے اور سامنے پھیلے کھیتوں میں دُودھیا دھند کو دیکھ کر دل کسی بےنام خوشی سے بھر جاتا ہے۔۔۔۔۔

چائے کی کیتلی چڑھتی ہے اس کی بھاپ دیہاتی صحنوں میں خوشبو کا پرچم بن کر لہراتی ہے۔ عورتیں چوکے میں مصروف ہوتی ہیں، بچے نیم گرم پانی سے منھ دھوتے ہیں اور مرد نلکے کے پاس یخ پانی کی چپتیں برداشت کر کے وضو کرتے ہیں۔ پورے گاؤں میں زندگی دھیرے دھیرے جاگتی ہے جیسے کسی نے دھند کے پیچھے سے سورج کو للکارا ہو۔۔۔۔۔

یہ نومبر ہے جناب دیہات کے دل کی دھڑکن۔ رات کی آگ، کمبل کی حدت، قصوں کی گرمی اور صبح کی دھند بھری روشنی سب مل کر ایسا منظر بناتے ہیں جو روح کی دیواروں تک جا کر دستک دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔