ہمیں لگتا ہے کہ فیس بک صرف ایک مفت ایپ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ یہ پلیٹ فارم آپ کی نفسیات، آپ کے ڈر، اور آپ کی عادات کا ڈیٹا جمع کر کے آپ کو ایک ڈیجیٹل کٹھ پتلی بنا رہا ہے۔ کیا آپ تیار ہیں وہ سچ جاننے کے لیے جو الگورتھم آپ سے چھپا رہا ہے؟
1: فیس بک آپ کے بارے میں ہزاروں ڈیٹا پوائنٹس رکھتا ہے، بشمول آپ کی لوکیشن ہسٹری، نیند کا وقت، اور خریداری کی عادات، چاہے آپ ایپ استعمال نہ بھی کر رہے ہوں۔
2: فیس بک ہماری باتیں مائیکروفون سے سنتا ہے۔ فیس بک کا دعویٰ ہے کہ وہ نہیں سنتا، لیکن اس کا ایڈ الگورتھم اتنا طاقتور ہے کہ وہ آپ کی براؤزنگ اور دوستوں کی پسند دیکھ کر پیش گوئی کر لیتا ہے کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں۔ اسے "Predictive Analytics" کہتے ہیں۔
3: فیس بک سے لاگ آؤٹ کرنے پر ٹریکنگ ختم ہو جاتی ہے۔ بالکل بھی نہیں فیس بک کے پکسلز (Pixels) لاکھوں ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ آپ لاگ آؤٹ ہوں تب بھی فیس بک کو پتہ ہوتا ہے کہ آپ کون سی ویب سائٹ پر کیا کر رہے اور کیا دیکھ رہے ہیں۔
4: فیس بک آپ کے ڈیلیٹ کیے گئے میسجز، ویڈیوز اور تصاویر کو اپنے سرورز پر کئی مہینوں یا سالوں تک بیک اپ کی صورت میں رکھتا ہے۔
5: فیس بک کا الگورتھم آپ کو ایک ایکو چیمبر سسٹم میں قید کر کے رکھتا ہے۔ وہ آپ کو وہی کچھ دکھاتا ہے جو آپ پہلے سے پسند کرتے ہیں، جس سے آپ کی سوچ مزید سخت ہو جاتی ہے۔
6: ایک بار 2012 میں فیس بک نے 7 لاکھ صارفین پر ایک خفیہ نفسیاتی تجربہ کیا تھا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو صرف افسردہ پوسٹس دکھائیں یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا وہ بھی افسردہ ہوتے ہیں یا نہیں۔
7: فیس بُک کا الگورتھم یہ بھی طے کرتا ہے کہ آپ کو کب کس چیز کا نوٹیفیکیشن بھیجنا ہے تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ وقت ایپ پر گزاریں۔
8: فیس بک کے "شیڈو پروفائلز" یہ ایک پراسرار حقیقت ہے! اگر آپ کا فیس بک اکاؤنٹ نہیں بھی ہے، تب بھی فیس بک نے آپ کے دوستوں کے کانٹیکٹ لسٹ سے آپ کا ایک خفیہ پروفائل بنا رکھا ہے جس میں آپ کا نمبر اور ای میل شامل ہوتا ہے۔
9: حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا میں فیس بک پر روزانہ اوسطاً 6 لاکھ ہیکنگ کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
10: فیس بک پر اس وقت 3 کروڑ سے زیادہ مردہ لوگوں کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2099 تک فیس بک پر زندوں سے زیادہ مردوں کے اکاؤنٹس ہوں گے۔
11: آپ کو معلوم ہے، آپ فیس بک کی کسی بھی سروس کو استعمال کرنے کے لیے کوئی پیسے نہیں دے رہے، تو آپ خود پراڈکٹ ہیں جسے مشتہرین کو بیچا جا رہا ہے۔
12: اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 65 سال سے اوپر کے لوگ فیس بک پر سب سے تیزی سے بڑھنے والا گروپ ہیں، جبکہ نوجوان انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی طرف جا رہے ہیں۔
13: فیس بک کے دو AI بوٹس (Alice اور Bob) نے آپس میں ایک ایسی زبان میں بات کرنا شروع کر دی جو انسانوں کی سمجھ سے باہر تھی، جس کے بعد اس پروجیکٹ کو بند کرنا پڑا تھا۔
14: فیس بک سمندروں کے نیچے ہزاروں میل لمبی اپنی کیبلز بچھا رہا ہے تاکہ پوری دنیا کے انٹرنیٹ ٹریفک پر اپنا کنٹرول حاصل کر سکے۔
سب سے زیادہ پراسرار اور حیران کن بات! فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو آپ بلاک (Block) نہیں کر سکتے۔ اگر آپ کوشش کریں گے تو ایک "Error" میسج آ جائے گا!