عید الفطر، وہ مہکتا ہوا گلاب ہے جو رمضان کی عبادات کی شبنم سے تر ہوتا ہے، وہ چاندنی ہے جو تقویٰ کے آسمان پر چمکتی ہے، وہ بہار ہے جو روحوں کو مسرتوں کے پھولوں سے نوازتی ہے۔ مگر افسوس ، آج یہ بہار، زیادہ تر خزاں کی زد میں ہے، یہ چاندنی گہناتی جا رہی ہے، یہ گلاب، خوشبو سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ کہیں موبائل کی مصنوعی جگمگاہٹ نے عید کی اصلی چمک کو دھندلا دیا ہے تو کہیں مصروف زندگیوں کے تھپیڑوں نے خوشیوں کے رنگ پھیکے کر دیے ہیں۔
کبھی یہی عید ہوتی تھی کہ گلیاں، بازار، محلے سب گیت گاتے محسوس ہوتے تھے، جیسے ہر در و دیوار عید کی خوشبو میں بسا ہو۔ چاند رات آتی تو گلیوں میں قہقہوں کے چراغ جل اٹھتے، چوڑیوں کی کھنک، مہندی کی مہکار، اور کپڑوں کی خریداری کا جوش ایک سماں باندھ دیتا۔ دکان دار اپنی آوازوں سے بازار کو زندہ رکھتے، "آجاؤ ، تازہ چوڑیاں لے لو۔ مہندی لگوالو، عید کی رات ہے۔ " جیسے خود بازار بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو۔
بچوں کی خوشیوں کی الگ ہی دنیا تھی، ان کے چہرے چمکتے، نئے کپڑے پہننے کی خوشی میں نیندیں اڑ جاتیں، عیدی لینے کا اشتیاق ان کے دلوں میں جلتی ایک روشن شمع کی مانند ہوتا۔ بزرگوں کے دروازے پر صبح سویرے ہی بچے جا دھمکتے، "عیدی بابا جان ، عیدی نکالیں چچا " اور بوڑھے ہاتھ محبت سے ان کے ننھے ہاتھوں میں نئے نوٹ رکھ دیتے۔ یہ نوٹ محض کاغذ نہ ہوتے، بلکہ دعاؤں، محبتوں، اور اپنائیت کا تحفہ ہوتے۔
لیکن آج ، آج کی عید کا منظر ایک اور ہی داستان سنا رہا ہے۔ چاند رات آتی ہے تو بازاروں میں بھیڑ تو ہوتی ہے، مگر وہ پرانی چہل پہل نہیں، وہ خلوص نہیں، وہ محبت نہیں۔ سوشل میڈیا کی روشنی نے چاند رات کی حقیقی چمک کو ماند کر دیا ہے۔ اب مہندی کی خوشبو کم اور موبائل فون کی روشنی زیادہ ہوتی ہے، چوڑیوں کی جھنکار کی جگہ سیلفیوں کی فلیش نے لے لی ہے، دکان داروں کی آوازیں دب چکی ہیں، بر ینڈز اور اسٹیٹس اپڈیٹس کی گونج بڑھ چکی ہے۔
صبح ہوتی ہے تو نمازِ عید کے لیے پہلے جہاں مساجد میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا جوش ہوتا تھا، اب وہاں زیادہ تر لوگ جلدی سے نماز پڑھ کر موبائل پر عید مبارک کے پیغامات بھیجنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ پہلے جو ملاقاتیں دلوں کو جوڑتی تھیں، اب وہ وائس میسیجز میں سمٹ چکی ہیں، پہلے جو ہاتھ ملاتے تھے، اب وہ اسکرینز پر ٹائپ کرنے میں مصروف ہیں۔
بچوں کی معصوم دنیا بھی بدل چکی ہے۔ پہلے جو عیدی لے کر آئس کریم اور کھلونوں کی دکانوں پر بھاگتے تھے، اب وہ ڈیجیٹل گیجٹس میں گم ہو چکے ہیں۔ اب عیدی ہاتھ میں آتے ہی گوگل پلے اسٹور یا کسی گیم کی سبسکرپشن خریدنے میں لگا دی جاتی ہے۔ وہ خوشی، وہ بھاگ دوڑ، وہ بے فکری جیسے کسی ماضی کی داستان بن کر رہ گئی ہے۔
یہ سب کیا ہے؟ کیا یہ ترقی ہے؟ کیا یہ جدیدیت ہے؟ یا ہم نے اپنی خوشیوں کی اصل روح کھو دی ہے؟ وہ عید جس میں محبت کی خوشبو ہوتی تھی، جس میں ملاقاتوں کی مٹھاس تھی، وہ اب وٹس ایپ کے "فارورڈ میسیجز" اور فیس بک پوسٹس میں سمٹ چکی ہے۔
لیکن امید باقی ہے۔ عید کی اصل روشنی اب بھی ہمارے اندر کہیں نہ کہیں زندہ ہے، بس اسے دوبارہ جگانے کی ضرورت ہے۔
پھر سے عید آنے والی ہے، آئیں ، اس دفعہ ہم اس دن کو ویسا ہی خوشیوں کا دن بنائیں جیسا کبھی ہوتا تھا۔ اپنے گھروں سے نکلیں، اپنے بڑوں سے ملیں، اپنے بچوں کو حقیقی خوشیوں سے روشناس کرائیں، اور اس عید کو صرف ایک تہوار نہیں، بلکہ اپنائیت، محبت، اور اخلاص کی جیتی جاگتی تصویر بنائیں۔
کیونکہ عید صرف ایک دن نہیں، بلکہ محبت کے دیے جلانے کی رات، خلوص کے پھول کھلانے کی صبح، اور اپنوں کو سینے سے لگانے کی گھڑی ہوتی ہے۔
محمد مصعب پالنپوری