🥹*الوداع اے ماہ رمضاں اب جدا ہوتا ہے تو*🥹
کائنات کے بوجھل افق پر جب شوال کا ہلال ایک لرزتی ہوئی لکیر کی صورت نمودار ہوتا ہے، تو وہ محض ایک چاند نہیں ہوتا، بلکہ ایک عہدِ نور کے تمام ہونے کا اعلان ہوتا ہے، مسرتوں کے ہجوم میں ایک مومن کا دل اس یتیم بچے کی طرح سسک رہا ہوتا ہے جس کا سائبان چھین لیا گیا ہو، آج ہواؤں میں ایک ایسی اجنبی اداسی ہے جیسے شجر و حجر بھی اس مقدس مہمان کی رخصت پر نوحہ کناں ہوں جس نے تیس دن تک زمین کو آسمان بنا رکھا تھا۔
*الوداع اے میرے مہربان رفیق* تو محض ایک مہینہ نہیں تھا، تو تو میرے رب کی وہ آغوشِ رحمت تھا جس میں مجھ جیسے گناہگار نے پناہ لی تھی، تیرے آنے سے پہلے میرا وجود ایک بنجر زمین کی طرح تھا، جہاں گناہوں کی دھول اڑتی تھی، مگر جب تیری سحر کی ٹھنڈی ہواؤں نے میرے ماتھے کو چھوا، تو سجدوں میں وہ لذت لوٹ آئی جو برسوں کی مسافت کے بعد بھی میسر نہ تھی، وہ راتیں جب تلاوت کی خوشبو روح میں اترتی تھی، اور وہ سحر کی خاموشیاں جب خالق اور مخلوق کے درمیان حجابات اٹھ جیتے تھے آج وہی یادیں ایک تشنہ لب مسافر کی طرح میرے سینے میں دم توڑ رہی ہیں۔
آج جب تو رخصت ہو رہا ہے، تو میرے اندر ایک تلاطم برپا ہے کہ ہائے! میں نے تجھے پہچانا کیوں نہیں؟ وہ ساعتیں جو تیری برکتوں سے لبا لب تھیں، میں نے انہیں غفلت کی بھینٹ چڑھا دیا، وہ آنسو جو میرے گناہوں کا کفارہ بن سکتے تھے، میری پلکوں کی دہلیز تک آ کر لوٹ گئے، یہ خیال ہی کلیجے کو چیر دیتا ہے کہ کیا یہ میری اور تیری آخری ملاقات تھی؟ کیا معلوم اگلی سحر کے وقت میری آنکھیں منور ہوں گی یا مٹی کی چادر تلے ہمیشہ کے لیے موند دی جائیں گی؟ پچھلے سال جو میرے پہلو میں بیٹھ کر افطار کی دعا مانگتے تھے، آج ان کی قبروں پر خاموشی کا پہرا ہے، اے میرے مالک اگر یہ میری آخری باری تھی، تو میری اس ادھوری حاضری کو اپنی کامل رضا کا نشان بنا دے۔
اے پیارے رمضاں! جب تو اپنے رب کے حضور پہنچے، تو خالی ہاتھ نہ جانا، میرے ان سجدوں کا ذکر ضرور کرنا جو تھکن کے باوجود تیرے احترام میں جھکے تھے، میری ان بے آواز سسکیوں کی گواہی دینا جو تنہائی کے مصلے پر تیرے خوف اور محبت میں نکلی تھیں، میرے رب سے عرض کرنا *اے غفور الرحیم* تیرا یہ بندہ شکستہ تھا، بکھرا ہوا تھا، مگر تیرے مہینے کی حرمت میں اس نے اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو تیرے در پر لا رکھا تھا اسے نامراد نہ لوٹانا۔
اے معزز و متبرک مہینے تو جا رہا ہے، مگر اپنے پیچھے سحر کی وہ مقدس خاموشی اور افطار کی وہ رقت آمیز دعائیں ایک کسک بن کر چھوڑے جا رہا ہے، ڈر لگ رہا ہے کہ تیرے جاتے ہی یہ نفس پھر سے ہمیں ان اندھیروں میں نہ دھکیل دے جہاں سے تو نے ہمیں نکالا تھا، اے اللہ رمضاں کو ہم سے رخصت نہ کر، بلکہ رمضاں کی اس کیفیت کو ہمارے اندر ہمیشہ کے لیے قید کر دے۔
*الوداع اے ماہِ صیام* تجھ سے بچھڑنا گویا اک عمر کی رفاقت کا لٹ جانا ہے،تو جا رہا ہے، مگر مری آنکھوں کے ساون اب کبھی نہیں تھمیں گے، جب تک کہ تو پھر سے مرے آنگن کو منور کرنے نہ آ جائے،یقینا تیرے ہر لمحے نے ہمیں منور کیا تھا، تیرے وجود سے رونقیں تھی،سحر کے وقت میں مساجد میں لوگوں کا ہجوم مسلمانوں کی بیداری کو رونما کرتا تھا، کبھی برتنوں کے کھنکنے کی آوازیں، کبھی والدین اور گھر کے ذمے دار افراد کے نغمے ہمیں اور الصلاۃ خیر من السحر کی صدائیں ہمارے وجود کو ہر دن منور کر رہی تھیں،ان تمام خوشنمائیوں کو باوجود الوداع اے ماہ صیام الوداع🥹
اللہ کریم اس معزز اور متبرک مہینے میں کی گئیں ہماری تمام عبادتیں ریاضتیں تلاوت قرآن و تراویح و استغفار کو شرف قبولیت عطا فرما، جو مسلمان بھائی پریشان حال ہیں انکی پریشانی کو دور فرما، جو بیمار ہیں انہیں شفائے کاملہ عاجلہ دائمہ مستمرہ عطا فرما، جو مقروض ہیں قرض سے سبکدوشی عطا فرما، جو بے روزگار ہیں بہتر سے بہتر رزق عطا فرما آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*