عید… ایک ایسا دن جس کا نام آتے ہی دل خوشیوں سے بھر جاتا ہے۔ گھروں میں رونقیں، بچوں کی ہنسی، نئے کپڑوں کی خوشبو، اور دعاؤں کی آوازیں فضا میں گونجتی ہیں۔ مگر کیا واقعی یہ خوشیاں سب کے نصیب میں ہوتی ہیں؟ کیا ہر آنکھ عید کے دن مسکرا پاتی ہے؟
فلسطین کی سرزمین پر جب عید کا چاند نظر آتا ہے تو وہاں کے لوگوں کے دلوں میں خوشی سے زیادہ درد جاگ اٹھتا ہے۔ وہ چاند جو ہمارے لیے خوشخبری لاتا ہے، ان کے لیے ماضی کے زخموں کو تازہ کر دیتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے گھروں کے ملبے، ویران گلیاں، اور بچھڑے ہوئے پیاروں کی یادیں—یہی ان کی عید کی حقیقت ہے۔
جہاں ہم عید کی نماز کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگاٸیں گے، وہاں فلسطین کے بہت سے لوگ اپنے پیاروں کی قبروں سے لپٹ کر روٸیں گے ۔ جہاں ہمارے گھروں میں پکوانوں کی خوشبو ہوگی، وہاں کئی گھروں میں فاقہ کا بادل چھایہ ہوگا۔ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ کی جگہ خوف کی پرچھائیا ہونگی، اور ان کی آنکھوں میں عید کے خواب نہیں بلکہ جنگ کے ساۓ ہونگے
یہ کیسی عید ہے جس میں کچھ گھروں میں قہقہے کی آوازیں سناٸی دیں اور کچھ گھروں میں سسکیاں؟ یہ کیسی خوشی ہے جودوسروں کے دکھ کے سامنے شرمندہ سی لگے ؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک دنیا کے کسی کونے میں ظلم کی آگ جلتی رہے گی، ہماری خوشیاں مکمل نہیں ہو سکتیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عید کی خوشیوں میں ان مظلوم لوگوں کو یاد رکھیں۔ ان کے لیے دعا کریں، ان کے درد کو محسوس کریں، اور اپنی حیثیت کے مطابق ان کی مدد کریں۔ کیونکہ اصل عید صرف نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں، بلکہ ٹوٹے دلوں کو جوڑنے اور آنسو پونچھنے کا نام ہے۔
آخر میں میرابس یہی سوال ہے
کیا عید سب منائیں گے؟
شاید نہیں…
جب تک فلسطین کی مائیں اوردیگر مظلوم مسلمان اپنے بچوں کو خوف کے سائے میں سلانے پر مجبور ہیں، جب تک وہاں کے بچے ہنسی کے بجائے چیخوں میں پل رہے ہیں، تب تک عید کی خوشی ادھوری ہی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے پیارے مسلمان بھائیو اور بہنوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سب کو اس بات کا عہد ضروری ہے 
کہ ہم غزہ کے خوشیوں اور غموں میں شریک تھے شریک ہیں اور شریک رہیں گے


؟؟عروہ جی