__________________________________________

*🌻صدقة الفطر کا مصرف(1)*

صدقۃ الفطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے۔

[1] اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا (87.48 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.36 گرام ) ہو تو اسے صدقۃ الفطر دینا جائز نہیں۔

[2] اگر کسی شخص کی ملکیت میں سونے چاندی کی مذکورہ مقدار بالکل نہ ہو یا کم تو اب دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی ملکیت میں یہ پانچ چیزیں سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت اور گھر کا زائد از ضرورت سامان موجود ہوں یا ان میں سے بعض موجود ہوں اور ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس شخص کو صدقۃ الفطر دینا جائز نہیں۔

*فائدہ نمبر01*

زائد از ضرورت سامان سے مراد وہ سامان ہے جس کے بغیر انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں۔ اس تعریف کی رو سے کھانے پینے کا سامان، رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے اور زیورات، گھریلو ضروری اشیاء (مثلاً سلائی اور دھلائی کی مشین، فریج، کھانا پکانے کے برتن وغیرہ)، تاجروں اور مزدور طبقہ کے آلات صنعت و حرفت (مثلاً مشینری، فرنیچر وغیرہ) ضرورت کا سامان کہلائے گا، اور ایسا سامان، برتن اور کپڑے وغیرہ جو بنیادی ضرورت و حاجت کے نہ ہوں اور سال بھر میں ایک بار بھی استعمال نہ ہوتے ہوں تو وہ زائد از ضرورت سامان شمار ہوں گے۔

*فائدہ نمبر02*

ان پانچ چیزوں (سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت ، گھر کا زائد از ضرورت سامان ) کے مجموعے کو حرمان زکوۃ کا نصاب کہا جاتا ہے۔ اس کی موجودگی میں صدقۃ الفطر لینا جائز نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب