*شریف لڑکیاں اور سہیلیوں کا اثر*
کچھ لڑکیاں گھر کے ماحول سے نہایت مہذب، باحیا اور سادہ طبیعت لے کر کالج یا یونیورسٹی آتی ہیں، ان کی تربیت اس انداز سے ہوتی ہے کہ وہ ہر کام کرنے سے پہلے سوچتی ہیں، بڑوں کا ادب کرتی ہیں، پردے کا خیال رکھتی ہیں، اور کسی غلط کام کے قریب بھی نہیں جاتیں، ان کے دل میں اللہ کا خوف اور ماں باپ کی عزت کا خیال ہوتا ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ نرمی اور شرافت ہی ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔
کالج میں جب ان کی ملاقات کچھ شوخ، بے پرواہ، اور آزاد خیال لڑکیوں سے ہوتی ہے تو وہ ان کے رویے سے متاثر ہونے لگتی ہیں, وہ لڑکیاں باتوں باتوں میں انہیں یہ باور کرانے لگتی ہیں کہ تم بہت بورنگ ہو، تمہیں خود کو بدلنا ہوگا، یہ زمانہ آگے نکل چکا ہے، اب ایسے شریف بن کر کوئی کچھ حاصل نہیں کرتا۔
شروع میں وہ شریف لڑکی ان باتوں پر دھیان نہیں دیتی، لیکن تنہائی، دوسروں کی توجہ کی خواہش، اور خود کو اکیلا محسوس کرنے کا احساس آہستہ آہستہ اسے ان سہیلیوں کے قریب کر دیتا ہے, پھر وہ سہیلیاں اس کا حلیہ بدلتی ہیں, عبایا اُتروا کر جینز پہنا دیتی ہیں، ہاتھ میں کتاب کی جگہ فون پکڑا دیتی ہیں، اور پاکیزہ باتوں کی جگہ فیشن، لڑکے، سیلفیاں اور پارٹیوں کے قصے تھما دیتی ہیں۔
وہ لڑکی جو کبھی نماز کے لیے وقت نکالتی تھی، اب سیلفی لینے کے لیے آئینے کے سامنے وقت گزارنے لگتی ہے, جو کبھی ماں سے ہر بات شیئر کرتی تھی، اب چھپ چھپ کر سہیلیوں سے میسج کرتی ہے , اسے لگتا ہے کہ وہ اب کول ہو گئی ہے، لیکن اصل میں وہ اپنی معصومیت اور عزت کا زیور گنوا چکی ہوتی ہے۔
ایسے میں اگر اسے وقت پر کوئی احساس دلا دے، کوئی نیک دوست، کوئی استاد یا ماں باپ اسے روک لیں، تو وہ سنبھل سکتی ہے, لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا, وہ دھیرے دھیرے اتنی دور نکل جاتی ہے کہ واپسی کا راستہ ہی دھندلا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماں باپ کو صرف اپنی بیٹیوں کو اسکول یا کالج داخل کروانے پر اطمینان نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کے دوستوں، ان کے ماحول، اور ان کے بدلتے رویوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے, بیٹی کو صرف اچھے نمبروں کا نہیں، اچھے کردار کا تحفہ دینا چاہیے۔
اور بیٹیو! یاد رکھو، دنیا کچھ وقت کے لیے تمہیں تالیاں دے گی، لیکن جب وقت گزرے گا، تو تمہیں تمہارا ضمیر، تمہارا کردار اور تمہارا رب یاد آئے گا, اگر تم نے خود کو سنبھالا، تو تم ہزاروں کی روشنی بن سکتی ہو، لیکن اگر بہک گئیں، تو اپنا ہی چراغ بجھا بیٹھو گی۔
اور بے شمار ایسی لڑکیاں ہیں جن کا کریکٹر اچھا تھا، تربیت نمایا تھی، بلکہ وہ دوسرے کے لیے آئیڈیل تھیں، لیکن وقت کی آگ میں ایسی جلیں.
نا خدا ہی ملا نا وصال صنم،
نا ادھر کے رہے نا ادھر کے رہے۔
اور بہت سی شریف لڑکیاں اپنی خواہش کا شکار ہو کر اپنی جان گواں بیٹھیں، اور اس دنیائے فانی کو الودع کہ کر چلیں گئیں، اور پورے خاندان پر لگے دھبے کو قیامت تک کے لیے قائم کر گئیں، اور بڑی پرسکونی سے اسے محبت کا لقب دیتیں تھیں۔
یہ بات کان کھول کر سنیں!
شادی سے پہلے کوئی محبت نہیں اور شادی سے بہتر کوئی محبت نہیں،باقی سب فضولیات ہیں جنکا اسلام نے کبھی تصور نہیں دیا اور نا قیامت تک دے سکتا ہے،اگر کوئی محبت کا کہے تو پہلا مطالبہ شادی اور فورا والدین سے کونٹیکٹ اس لڑکے یا لڑکی کو لیکر، اور اگر اس سے پہلے کسی بھی محبت کی اگر لوگ بات کریں تو صرف و صرف جہالت اور فحاشی کو بڑھاوا اور زندگی کے ساتھ کھلواڑ ہے اسکے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
ارے بھائی آپ آزاد تھے، آپ فری تھے،آپ وقت پر کھانا وقت پر سونا وقت پر جاگنا آپکا مشغل تھا کیوں آپ کسی کے لیے پریشان ہونے لگے اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ آزاد زندگی کو چھوڑ کر قیدی زندگی کو قبول کرنے والے ہیں جو عقل و ذہانت و فطانت و تدبر کے مخالفت کرتی ہوئی نظر آتی ہے، یوں سمجھیں کہ اپنے عقلمندی کو آپ بیوقوفی ثابت کرنا چاہتے ہیں،اور بتانا چاہتے ہیں کہ ہم سے بڑھ کر کوئی بے وقوف نہیں، کیونکہ آزادی کے مقابل قید خانہ کو کوئی بے وقوف ہی قبول کر سکتا ہے.
*✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*