دارالعلوم دیوبند میں ختم تراویح کا ماحول

معاذ حیدر 
٢٩/ رمضان ١٤٤٧ھ

   آج عصر کے بعد سے ہی دارالعلوم میں تعداد بڑھنے لگی تھی، اطراف و اکناف سے لوگ جوق در جوق اس دیار کا رخ کر رہے تھے، بھیڑ میں رفتہ رفتہ اضافہ ہو رہا تھا، "چھتہ مسجد" کے باہر بھی دسترخوان لگایا گیا، بہت بڑی تعداد نے یہاں افطاری کی، وقت سے پہلے ہی مسجدیں بھر چکی تھیں‌۔
     ان دنوں میں "مسجدِ قدیم" کی امامت سپرد ہے، عشاء کی نماز میں نے مؤذن صاحب کے حوالے کیا اور اذان ہوتے ہی "چھتہ مسجد" حاضر ہوگیا، رفیقِ محترم مولوی عاطف افغانی -زید فضلہ- کی توجہ سے چوتھی صف میں جگہ ملی۔
    ایک پارہ رہ گیا تھا، شروع کے دس رکعتیں "حضرت مفتی خبیب مدنی صاحب" نے پڑھائیں، اس کے بعد "حضرت مفتی علی مدنی صاحب" مصلے پر آۓ، اخیر کی دو رکعت سے قبل پوری مسجد کو اندھیرا کر دیا گیا، انیسویں رکعت میں "سورۂ ناس" تک کی تلاوت ہوئی، بیسیوں رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد مفتی علی صاحب نے سورۂ بقرہ کے شروع کی آیتیں پڑھیں، اس کے بعد پورے قرآن میں مذکور "آیاتِ دعا" کی تلاوت کی، اس درمیان پورا مجمع رونے لگا، چیخیں نکل گئیں، ہر آنے والی آیت آہ وفغاں میں اضافہ کر رہی تھی، ہر دوسرا لمحہ اشک ریز ثابت ہو رہا تھا، پوری بزم گویا آنسؤوں کے سمندر میں غرق تھی، عجیب ومنظر تھا، ان دنوں کچھ قساوت پیدا ہوگئ تھی، آج کی بیسویں رکعت اس کے حق میں اکسیر ثابت ہوئی، یادِ آخرت سے ایک گونہ غفلت ہوگئ تھی، رُویں رُویں پر گناہوں کے اثرات حاوی تھے، تراویح کی آخری رکعت نے سب کچھ درست کردیا۔
    بعد ازاں "حضرت الاستاذ، امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی صاحب -دامت برکاتہم-" نے نہایت رقت آمیز دعا کرائی، خوب روۓ اور خوب رلایا، گناہوں سے تھکنے والا جسم آج پہلی بار روتے روتے تھک گیا۔
    وتر پڑھ کر باہر آیا، دارالعلوم کے ماحول کو دیکھنے کا ارادہ ہوا، "مسجدِ قدیم" گیا، وہاں کا ماحول معمول کے مطابق تھا، داخلہ امتحان کی تیاری زور وشور سے ہورہی تھی، پھر "مسجدِ رشید" کا قصد کیا، ہفتم ثانیہ سے آگے بڑھا تو دیکھا ہر طرف مصلے لگے ہوۓ ہیں، دارِ جدید کے سامنے کے چمن میں نماز ہورہی ہے، ہر ایک یہیں سے مسجدِ رشید کے امام کی اقتداء میں نیت باندھے ہوۓ ہے، اس فاصلہ میں کہیں سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے، پوری مسجد بھری ہوئی ہے، صحن میں جگہ نہیں ہے، مسجد کا پورا احاطہ نمازیوں سے مشغول ہے، مدنی گیٹ، پارکنگ کا حصہ، وضوخانہ، دارِ جدید کے برآمدے، بجلی گھر کے ارد گرد کی جگہیں مصلیوں سے پُر ہیں، یہاں بیسویں رکعت شروع ہوگئ تھی، آیاتِ دعا پر رونے کی آواز سے پورا دارالعلوم گونج رہا تھا، "إنابت إلى الله" کا یہ بے مثال منظر تادمِ آخریں ہمیں یاد رہے گا۔