احکم الحاکمین کی طرف سے اپنے بندوں پر جودو سخا اور رحمت کا شامیانہ ہر عام وخاص پر اپنی رحمت کی بارش برساتا ہوا گزر رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ناقدروں کے لیے بھی یہ مہینہ آیا تھا اور اب جارہا ہے، ہم نے زندگی کی اتنی قیمتی گھڑیاں اس طرح ضائع کردیں کہ آج تو گزر گیا کل سے قدر کریں گے ، اسی طرح ایک کے بعد ایک دن اور اب یونہی پورا مہینہ گزرنے کو ہے۔ 
ماہ مبارک میں کی رحمت ہر کس وناکس پر برسی ہر ایک نے اپنی بساط کے بقدر کچھ نہ کچھ خزانہ دامن میں بھرا، قرب قیامت کے اس خیر کی کمی اور شر کے فروغ کے دور میں اس ماہ مبارک میں مساجد بھریں رہیں، ہر مسلمان میں کچھ نہ کچھ عمل صالح کا جذبہ رہا، کتنے ہی شرابی سال بھر شراب پیتے تھے ماہ مبارک میں انہوں نے نہیں پی، کتنے ہی چور ڈاکو اور برے کام کرنے والوں نے ماہ مبارک کے احترام میں برے کاموں سے پرہیز کیا، ہر مسلمان حتی الامکان خیر کے قریب اور شر سے دور رہا۔ 
اور کیوں نہ ہو! جب احسن الخالقین نے ہماری فطرت اور ضرورت کے لحاظ سے اس ماہ کو ہماری ایمانی اور روحانی تقویت کا ذریعہ بنایا، ایسے عاشقانہ اور والہانہ نظامِ تربیت میں ایک ماہ زندگی گزار کر ہر مسلمان اپنے اندر مثبت تبدیلی محسوس کرتا ہے، ہم میں سے ہر کسی کو احساس ہے کہ ماہِ مبارک کے ایمانی اور روحانی ماحول سے متاثر ہوکر کچھ نہ کچھ طاعت کرنے اور گناہوں سے بچنے کے باوجود ہم ماہ مبارک کی قدر نہ کر سکے، روزے جس طرح رکھ سکتے تھے اس طرح نہیں رکھے، جس طرح تراویح میں قرآن پڑھا اور سننا مطلوب ہے ہم اس کا حق ادا نہ کر سکے ، خود قرآن کریم کی تلاوت بھی ہم سے کما حقہٗ نہ ہوئی، اس کے علاوہ تمام شب قہوہ خانوں اور ہوٹلوں کی آبادی، ہماری خواتین کابے پردہ غیر محارم کے ساتھ بازاروں میں بے تکلف ہونا اور عشرہ اخیرہ میں بجائے عبادت، توبہ و استغفار کے بازاروں میں عید کی خریداری کرنا اور خدا کی رحمت خاصا کو ٹھکرا دینا۔ 
ہمیں چاہیے کہ رب کے حضور توبہ و استغفارکریں ، شریعت مطہرہ ہمیں ہر کام کے اختتام پر توبہ و استغفار کی تلقین کرتی ہے ، 
توبہ توبہ کے تینوں ارکان کے ساتھ کرنی چاہیے کہ اپنے گناہوں پر ندامت اور شرمندگی ہو، توبہ کے بعد گناہوں سے احتیاط ہو اور آںٔندہ نہ کرنے کا عزم ہو ، دل میں یہ عہد کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آںٔندہ رمضان عطا کیا تو ہم پوری قدر کریں گے۔ 
اب چوں کہ رمضان اپنا رخت سفر باندھ رہا ہے اور آںٔندہ سال کا وعدہ کر کے ہم سے رخصت ہو رہا ہی عنقریب چند ممالک میں عید کا چاند نکلنے والا ہے، جس رات عید کا چاند نکلتا ہے یعنی انتیسویں رات یا تیسویں رات اس کو عرف عام میں چاند رات کہتے ہیں کہ اب عید کا چاند دیکھ لیا اور صبح عید ہے مگر احکم الحاکمین کی بارگاہ میں اس رات کا الگ مقام و مرتبہ ہے اس رات میں پورے ایک ماہ کی عبادت و ریاضت اطاعت و فرمانبرداری کے اجر کا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کو اس کے انعام سے نوازا جاتا ہے ، اسی بنا پر عید کی رات کو لیلۃالجاںٔزہ یعنی انعام والی رات کہا گیا ہے۔ 
اس عید کو عیدالفطر کہا جاتا ہے، عید الفطر مسرت اور فرحت لاتی ہے، بحکم خداوندی مکمل ایک ماہ کے روزوں کے بعد عید کے دن روزہ رکھنا جاںٔز نہیں ، عیدالفطر افطار والی عید ہے بعض لوگ اس کو میٹھی عید بھی کہتے ہیں ۔ یہ عید ماہ صیام میں کی گئی ہماری روز و شب کی عبادت پر رضاء الہی کا پروانہ لیے ہوے امت مسلمہ کے لیے انعام ہے۔ عید ماہ رمضان کر اختتام کا اعلان ہے ۔ 
 دوسرے مذاہب میں جن کے لیے عید کا دن کھیل کھیلنے،مزے لوٹنے اور نفس کو آزاد چھوڑ دینے کی علامت ہے کہ ہر وہ اعمال جو کل تک ناروا تھے آج کے دن سب روا ہو گںٔے، عید کے دن کوئی حدود و قیود نہ ہو ں کہ وہ اسے پھلانگ جاںٔیں، اس کے بر خلاف اللہ تعالیٰ نے عید کو جو کہ خوشی کا دن تھا دین فطرت کے مزاج کے تحت او میں ایک سے زائد عبادت کو مشروع فرما دیا ، کہ اس دن مسلمان نہا دھو کر اپنے رب کے آگے دو رکعت نماز پڑھتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں کہ اس رب کریم نے رمضان المبارک کی عظیم عبادت روزہ رکھنے کی تو فیق عطا فرمائی۔ 
عید الفطر کے دن خوشی اور مسرت صرف انفرادی ہی نہیں بلکہ یہ خوشی اجتماعی بھی ہوتی ہے، اس خوشی کا اظہار کچھ یوں ہوتا ہے کہ تمام مسلمان ایک ساتھ نماز دوگانہ ادا کرنے کے بعد آپس میں مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں، ایک دوسرے کے گھر جاتے ہیں، شیرینی سے خاطر تواضع کی جاتی ہے ، سب بچے بوڑھے جوان خوش رنگ اور اجلے ملبوسات زیب تن کیے ہوے جمع ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دے رہے ہوتے ہیں۔ 
الغرض عید تو رمضان کا صلہ ہے اور رمضان کا تحفہ ہے جیسے بڑے لوگ عید کے دن بچوں کو عیدی دیتے ہیں اسی طرح اللہ نے ہم کو آپ کو یہ عید تحفہ کی شکل میں دی ہے 


ختم شد