" یہ مقابلہ نہیں، بس انتخاب تھا "
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (89)
زندگی کے بعض فیصلے بظاہر مقابلہ دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ صرف ایک انتخاب ہوتے ہیں۔ مقابلے میں جیت اور ہار کا شور ہوتا ہے، جبکہ انتخاب میں ایک خاموش ترجیح کارفرما ہوتی ہے۔ مقابلہ انسانوں کے درمیان ہوتا ہے، مگر انتخاب اکثر حالات، رجحانات اور کسی خاص زاویۂ فکر کی بنیاد پر سامنے آتا ہے۔ اسی لیے بعض نتائج ایسے ہوتے ہیں جو صرف کامیابی اور ناکامی کی سادہ کہانی نہیں ہوتے بلکہ سوچ کے کئی دروازے کھول دیتے ہیں۔
ادب کی دنیا بھی اسی اصول سے خالی نہیں۔ یہاں قلم کی طاقت، فکر کی گہرائی اور اظہار کی تاثیر اپنی اپنی جگہ اہم ہوتی ہے، مگر کبھی کبھی نتائج ایسے سامنے آتے ہیں کہ انسان بے اختیار یہ سوچنے لگتا ہے کہ یہ صرف مقابلہ نہیں بلکہ کسی خاص رخ کا انتخاب ہے۔ کیونکہ ادب میں ہر تحریر اپنی روح اور اپنے پس منظر کے ساتھ سامنے آتی ہے، اور اسی بنیاد پر اسے قبولیت یا ترجیح ملتی ہے۔
حال ہی میں ایک تحریری مقابلے کے نتائج سامنے آئے تو ایک دلچسپ پہلو سامنے آیا۔ مرد و خواتین مضمون نگار اس میدان میں شریک تھے، مگر اتفاق یہ ہوا کہ تینوں نمایاں پوزیشنیں خواتین مضمون نگاروں کے حصے میں آئیں۔ بظاہر یہ ایک نتیجہ تھا، مگر غور کیا جائے تو اس کے پس منظر میں ایک فکری سوال بھی جنم لیتا ہے۔ کیا یہ صرف مقابلے کی کامیابی تھی، یا دراصل کسی مخصوص زاویۂ نظر کا انتخاب؟
اس کی ایک منطقی توجیہ بھی سامنے آتی ہے۔ مقابلے کا موضوع نماز اور مسجد کے حوالے سے تھا۔ مسجد سے عملی وابستگی کے اعتبار سے مرد حضرات کا تعلق نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ان کی روزمرہ عبادت اور حاضری کا بڑا حصہ مسجد سے جڑا رہتا ہے۔ اس لیے مسجد کے ماحول، اس کے روحانی اثرات اور اس کے فوائد و نقصانات کے مشاہدات مرد حضرات کے لیے زیادہ براہِ راست اور تجرباتی ہوتے ہیں۔ دوسری طرف خواتین کی مسجد میں حاضری عمومی طور پر کم ہوتی ہے، لہٰذا اس موضوع پر ان کے تجربات کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ ایسے میں جب تینوں پوزیشنیں خواتین مضمون نگاروں کے حصے میں آئیں تو اسے محض اتفاق کہنا شاید پوری تصویر کو بیان نہیں کرتا؛ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ کم اور ایک خاص انداز کا انتخاب زیادہ تھا۔
مگر یہاں یہ بات وضاحت کے ساتھ کہنا ضروری ہے کہ اس تحریر کے پس منظر میں کسی قسم کا گلہ یا شکوہ نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو بہنیں اس میدان میں نمایاں ہوئیں، وہ یقیناً اپنی محنت، صلاحیت اور جذبے کے ساتھ سامنے آئیں۔ ان کی کامیابی اپنی جگہ قابلِ احترام ہے اور دل سے انہیں مبارک باد پیش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا دونوں میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، ان کے قلم کو خیر و اصلاح کا ذریعہ بنائے اور انہیں ہمیشہ عزت و وقار کے ساتھ آگے بڑھائے۔ آمین۔
البتہ یہ چند معروضات پیش کرنا بھی ضروری محسوس ہوا، کیونکہ بعض اوقات خاموشی کو رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر انسان اپنا زاویۂ فکر بیان نہ کرے تو گویا وہ خود کو بلا وجہ مجرم ٹھہرا دیتا ہے۔ اس لیے یہ سطور کسی اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری پہلو کے اظہار کے طور پر پیش کی گئی ہیں، تاکہ بات اپنی اصل صورت میں سامنے آ جائے اور کسی غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
ادب کی دنیا کا حسن بھی یہی ہے کہ یہاں اختلاف بھی احترام کے ساتھ ہوتا ہے اور سوال بھی وقار کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔ یہاں اصل قدر قلم کی نیت اور اس کے اثر کی ہوتی ہے۔ کوئی تحریر انعام حاصل کر لیتی ہے اور کئی تحریریں خاموش رہ کر بھی دلوں میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔
اس لیے دل کو یہی تسلی دینا زیادہ مناسب محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملے کو محض جیت اور ہار کے پیمانے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ بسا اوقات زندگی اور ادب دونوں ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہر نتیجہ مقابلے کی کہانی نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی حقیقت یہی ہوتی ہے کہ یہ مقابلہ نہیں تھا… بس انتخاب تھا۔
اس لیے دل کو یہی تسلی دینا زیادہ قرینِ حقیقت محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی مقابلہ نہ تھا…بس ایک خاموش انتخاب تھا۔
شعر.
نہ جیت کا تھا فسانہ نہ ہار کا قصہ تھا
جو کچھ ہوا وہ بس اک انتخاب کا حصہ تھا
بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com