استاد کی تھکن –وہ دکھ ہے جو نصاب میں نہیں لکھا جاتا ،

    کبھی آپ نے کلاس روم میں بیٹھ کر غور کیا ہے؟
سامنے بیٹھا استاد بول رہا ہوتا ہے…
آواز میں علم بانٹنے کی لگن، چہرے پر سنجیدگی، اور آنکھوں میں ایک خاموش تھکن — 
    ایسی تھکن جو کسی کتاب میں درج نہیں، کسی رپورٹ میں لکھی نہیں جاتی۔

      یہ تھکن صرف صبح سویرے اُٹھنے یا مسلسل لیکچرز دینے کی نہیں…
      یہ اُس وقت جنم لیتی ہے جب:
   • استاد دن بھر بچوں کو پڑھائے، اور آخر میں کوئی شکایت اس کے حصے میں آ جائے۔
     • وہ اپنے ذاتی دکھ پسِ پشت ڈال کر دوسروں کے بچوں کے خواب سنوارنے نکلے۔
  • کوئی شاگرد کامیاب ہو تو سب تالیاں بجائیں، مگر استاد کا ذکر تک نہ ہو۔

کبھی کبھی وہ خود کسی کرب (تکلیف و بےچینی) میں ہوتا ہے — گھر کی پریشانی، بچوں کی فیس، والدین کی دوا، یا دل کا بوجھ — 
     لیکن وہ سب چھپا کر مدرسے آتا ہے، مسکراتا ہے، اور پڑھانا شروع کر دیتا ہے… جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

کیا یہ سب صرف تنخواہ کے لیے ہوتا ہے؟
نہیں… یقین جانیے! استاد کا جذبہ کاغذی نوٹ سے کہیں آگے ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اس کی کلاس کا ہر بچہ کامیابی کی چوٹی چھوئے، 
وہ بنے۔۔۔۔۔ جو شاید خود استاد نہ بن سکا۔

    کبھی آپ نے کسی استاد کو خاموش بیٹھے دیکھا ہے؟

   ممکن ہے وہ تھک چکا ہو…

    ممکن ہے اس کی محنت کو نظر انداز کیا گیا ہو…

    ممکن ہے وہ نیا علم دینا چاہتا ہو، مگر نظام نے اسے باندھ دیا ہو۔

یہ تھکن جسم میں نہیں، دل میں اُترتی ہے…
پھر بھی استاد ہار نہیں مانتا۔
وہ روز نئے حوصلے سے کلاس میں آتا ہے — اس امید پر کہ شاید آج کا دن کسی بچے کی زندگی بدل دے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کا مستقبل روشن ہو،
تو ہمیں پہلے اُن ہاتھوں کا خیال رکھنا ہوگا جو انہیں روشنی تک پہنچاتے ہیں۔

استاد کو صرف “کام کرنے والا” نہ سمجھیں — وہ بھی انسان ہے، جذبات رکھتا ہے، کمزوریاں رکھتا ہے، اور سب سے بڑھ کر… ایک دل رکھتا ہے، جو چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات سنے، اس کی تھکن محسوس کرے، اور کبھی کبھار بس ایک شاباش دے دے۔

کیونکہ…
اگر استاد کا جذبہ بجھ گیا، تو کسی اور کا چراغ بھی روشن نہیں رہ سکے گا۔

یہ تحریر کسی کتاب یا مضمون کی نہیں…
یہ اُن سب خاموش، تھکے ہوئے مگر روشنی بانٹنے والے اساتذہ کے لیے ہے،
جنہیں ہم نے شاید کبھی سنا نہیں… محسوس نہیں کیا…
مگر جنہوں نے ہمیں زندگی میں کھڑا ہونا سکھایا ہے

✍️
ن۔۔قریشی 🏵️