قضاۓ عمری سے متعلق فقہاء کرام رحمہم اللہ کے اقوال 🌟
1-
امام بخاری حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہیں
وقال ابراہیم من ترک صلاۃ واحدۃ عشرین سنۃ لم یعد الا تلک الصلوٰۃ الواحدۃ
صحیح بخاری ج 1 ص 84
جس شخص نے ایک نماز چھوڑ دی تو اگرچہ بیس سال بھی گزر جائیں تو وہ شخش اسی اپنی قضاء شدہ نماز کو ادا کرے
2-
امام ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
فالاصل فیہ ان کل صلوٰۃفاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبہا فیہ فانہ یلزم قضاؤھا۔ سواء ترکھا عمدا او سھوا او بسبب نوم وسواء کانت الفوائت قلیلۃ او کثیرۃ
بحر الرائق ج 2 ص 141
اصول یہ ہے کہ ہر وہ نماز جو کسی وقت میں واجب ہونے کے بعد رہ گئی ہو ، اس کی قضاء لازم ہے خواہ انسان نے وہ نماز جان بوجھ کر چھوڑی ہو یا بھول کر ، یا نیند کی وجہ سے نماز رہ گئی ہو ۔ چھوٹ جانے والی نمازیں زیادہ ہوں یا کم ہوں ۔ بہر حال قضا لازم ہے ۔
3-
مشہور شارحِ مسلم علامہ نووی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
فِيهِ وُجُوب قَضَاء الْفَرِيضَة الْفَائِتَة سَوَاء تَرَكَهَا بِعُذْرٍ كَنَوْمٍ وَنِسْيَان أَوْ بِغَيْرِ عُذْر
شرح مسلم للنووی:ج1ص231
جس شخص کی نماز فوت ہوجائے اس کی قضاء اس پر ضروری ہے خواہ وہ نماز کسی عذر کی وجہ سے رہ گئی ہو جیسے نیند، اور بھول یا بغیر عذر کے چھوٹ گئی ہو
4-
علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
من قضی صلاۃ من الفرائض فی آخر جمعۃ من شہر رمضان کان ذالک جابرا لکل صلاۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ باطل قطعا لانہ مناقض للاجماع علی ان شیئا من العبادات لا یقوم مقام فائتۃ سنوات
الموضوعات الکبریٰ ص 356
یہ روایت کہ جو شخص رمضان کے آخری جمعہ
میں ایک فرض نماز قضاء پڑھ لے تو ستر سال تک اس کی عمر میں جتنی نمازیں چھوٹی ہوں گی ان سب کی ادائیگی ہو جائے گی یہ روایت قطعی طور پر باطل ہے اس لیے کہ یہ حدیث اجماع کے خلاف ہے ۔ جبکہ اجماع اس پر ہے کہ کوئی بھی عبادت سالہا سال کی چھوٹی ہوئی نمازوں کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔
نوٹ : فقہاء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ قضاء شدہ نمازوں میں سے صرف فرض نمازوں اور وتروں کو ادا کیا جائے سنتوں اور نوافل کی قضاء نہیں کی جائے گی۔
واللہ اعلم بالصواب