*منزل کی طرف بڑھنے والے مسافر پیچھے مُڑ کے دیکھنا توہینِ جستجو سمجھتے ہیں*


زندگی کا سفر ایک منزل کی طرف بڑھنے کا نام ہے وہ منزل جس تک پہنچنے کے لیے انسان کو عزم، حوصلہ، صبر اور توکل کی ضرورت ہوتی ہے جو مسافر سچے دل سے اپنی منزل کے متلاشی ہوں، وہ کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے، کیونکہ پیچھے دیکھنا اُن کی نظر میں کمزوری ہے، اور کمزوری جستجو کی روح کو کمزور کر دیتی ہے اور ماضی کے صفحات کو کھولنا ایک قسم کی سفاہت ہے۔

اور کسی کاتب نے بہت خوب لکھا ہے:

The past is your lesson. The present is your gift.The future is your motivation.

حقیقی مسافر وہی ہوتے ہیں جو اپنی ناکامیوں، رکاوٹوں اور مایوسیوں کو منزل کے راستے کی دھول سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اگر نگاہ پیچھے ٹھہر گئی تو قدم لڑکھڑا جائیں گے، لہٰذا وہ اپنی تمام توجہ صرف اُس سمت رکھتے ہیں جہاں اُنہیں پہنچنا ہے، قرآنِ کریم میں بھی ہمیں یہی سبق دیا گیا ہے کہ جب ارادہ کر لو تو پھر تردد یا پچھتاوے کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ آگے بڑھتے ہوئے اللہ پر توکل کرو:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے *فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ*

ترجمہ: پھر جب تم ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو، بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ارادے کے بعد پیچھے دیکھنا نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے قدم بڑھانا ہے جو اللہ پر توکل کرتا ہے، وہ کبھی راستے سےنہیں بھٹکتا۔

اس لیے جو لوگ منزل کے راہی ہیں، وہ اپنے ماضی کی زنجیروں سے آزاد ہو کر صرف اپنے ہدف پر نگاہ رکھتے ہیں اُن کے لیے ہر گرا ہوا لمحہ ایک سبق ہوتا ہے، اور ہر رکاوٹ ایک نئی طاقت یہی تو اصل جستجو ہے

جب انسان تھک کر بھی رکتا نہیں، گرتا ہے مگر اُٹھ کر چل پڑتا ہے، اور یقین رکھتا ہے کہ منزل اُسی کی ہے جو پیچھے نہیں دیکھتا، تو یقیناً کسی مقام پر پہنچ جاتا ہے، لہذا آپ بھی اٹھیں اور کمر بستہ ہو جائیں، اور اسلام کے دامن میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے تاریخ کا تختہ پلٹ کر کانٹوں پر قدم رکھ کر، درد و آلام کو اپنا رفیق بناکر ،دنیا کو وہ کارنامے کرکے دکھائے جس کی نظیر لانے سے دنیا قاصر ہے، تاریخ کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ جنہوں نے خدا پر بھروسہ رکھا، اُن کے پاؤں کبھی نہیں لڑکھڑائے، چاہے زمانے کی آندھیاں کتنی ہی تیز کیوں نہ چلیں، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غربت میں عزت دیکھی فقر میں وقار پایا اور مصیبتوں میں یقین کو اور مضبوط کیا، ان کی زندگیوں نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ پریشانیاں اُنہیں ڈراتی ہیں جن کا کوئی خدا نہیں ہوتا، مگر جن کے دل میں ایمان کی روشنی ہو، اُنہیں کوئی طاقت نہیں جھکا سکتی۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ وہ عظیم صحابی ہیں جنہوں نے دولت و دنیا کو ٹھکرا کر زہد و قناعت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی، انہوں نے فرمایا تھا میں اس حال میں مرنا چاہتا ہوں کہ میرے گھر میں اتنا مال بھی نہ ہو جو میرے کفن کے برابر ہو، دنیا نے دیکھا کہ وہ تنہا صحرا میں جان دیتے ہیں، مگر ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جنہوں نے اللہ پر توکل کیا اُن کے لیے تنہائی بھی رحمت ہے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی غلامی میں گزاری، ایک آقا سے دوسرے آقا کے ہاتھ فروخت ہوتے رہے، مگر اُن کا دل آزاد رہا، انہوں نے سچ کی تلاش میں وطن چھوڑا، مال و دولت کھویا مگر مقصد نہیں بھولے، جب رسولِ اکرم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو کہا یہی وہ منزل ہے جس کی جستجو میں، میں نے سب کچھ قربان کیا، یہ تھی وہ جستجو جو دنیاوی محرومیوں سے نہیں رکی بلکہ ایمان کی روشنی میں منزل تک پہنچی۔

حضرت بلال حبشی کا فقر دنیا کے امراء پر حجت بن گیا تپتی ریت بھاری پتھر، کوڑوں کی مار سب کچھ برداشت کیا مگر ایمان کا سودا نہیں کیا، انہوں نے دنیا کو بتایا کہ غلامی جسم کی قید ہے، روح کی نہیں

جب اذان دی اور اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہا تو ہر آندھی تھم گئی، ہر طوفان سرنگوں ہو گیا۔

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ لوہار تھے آگ میں کام کرتے تھے مگر ایمان کی گرمی اُنہیں زیادہ عزیز تھی، جب ایمان کے جرم میں دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، تو اُن کے جسم سے چربی پگھل کر آگ بجھانے لگی، مگر زبان پر کوئی شکوہ نہ آیا، ایسا صبر صرف اُنہی کے حصے میں آتا ہے جن کے دل میں یقینِ کامل ہو، اور پھر وہ فقرا و زاہدینِ امت، جنہوں نے پھٹے کپڑے پہنے مگر علم و عمل کی روشنی سے دنیا کو جگمگا دیا،

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو کوڑے لگے، امام مالک رحمہ اللہ کو قید کیا گیا، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو زہر دیا گیا، امام شافعی رحمہ اللہ کو ملک ملک بھٹکایا گیا مگر ان سب نے اپنے مقصد سے منہ نہیں موڑا

یہی تو ایمان کی جیت ہے کہ انسان سچ پر قائم رہے چاہے پوری دنیا اس کے خلاف ہو جائے۔

یہ سب اس امت کے وہ مسافر تھے جنہوں نے زمانے کو بتا دیا کہ: *پریشانیوں سے وہ ڈرے جس کا خدا نہ ہو* ہمارا خدا ہے الحمد للہ، ثم الحمد للہ، اور ہم اسی ذات پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

لیکن یاد رہے آپکو ماضی یا ادھر ادھر نہیں دیکھنا کون کیا کہتا ہے کیسے کہتا ہے کیوں کہتا سب بھاڑ میں جائیں آپکو اپنے آپکو شریعت کے حوالے کرکے ہر میدان میں کود جانا ہے انشاءاللہ العزیز آپکے پاس راہنمائی کے لیے قرآن ہے آپ پڑھو آپکا جو بھی دل کرے کرو بس اتنا خیال رکھنا اس میں شریعت کی مخالفت کا پہلو نظر نا آئے کون کیا کہتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں بھائی یہ دنیا ہے یہاں لوگ ہر انسان پر تبصرے کرتے ہیں آپکو کسی کی نہیں سننی صرف حدود اللہ کو قائم رکھنا ہے اگر آپ اسکو بھول گئے پھر کسی موڑ پر کامیاب ہونا بلکل غلط ہے اور ایک مفروضہ ہے جسکی کوئی حقیقت نہیں، اپنا ٹارگیٹ ہمیشہ بناؤ اور سوچ رکھو مجھے دین کا کام کرنا ہے اگر کچھ بھی نا صحیح جب تک نیت پر قائم ہیں آپکو ثواب تو ملے گا ہی انشاءاللہ العزیز، میری تحریر کافی لمبی ہو جائے گی ورنہ میں ایک واقعہ لکھتا جو میں نے سائیکالوجی میں پڑھا تھا لیکن اب پھر کسی اور دن لکھوں گا انشاءاللہ العزیز۔


اللہ کریم ہمیں اپنے ھدف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے قلموں کو حق و صداقت کے ساتھ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔


*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*