*طالب علم اور چوری ایک فکری مغالطہ*
*خامہ کش محمد عادل ارریاوی*
_________________________________
انسانی معاشرے میں کسی ایک فرد کے عمل کو پورے طبقے یا ادارے پر منسوب کر دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے تاریخ اور تجربہ یہ بتاتے ہیں کہ ہر جماعت اور ہر طبقے میں مختلف مزاج اور کردار کے لوگ موجود ہوتے ہیں تعلیم گاہوں کا مقصد انسان کی اصلاح تربیت اور کردار سازی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر کوئی فرد اپنی کمزوری یا برے رجحان کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کر لے تو اس کی ذمہ داری اسی فرد پر عائد ہوتی ہے نہ کہ اس ادارے یا طبقے پر جس سے وہ وابستہ ہے خصوصاً دینی مدارس جیسے ادارے تو بنیادی طور پر اخلاق دیانت اور تقویٰ کی تعلیم دینے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔
اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ایک نہایت سبق آموز واقعہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے مدرسے کے ایک طالب علم کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے جس میں ایک اہم اصولی نکتہ سامنے آتا ہے کہ کسی شخص کے جرم کو پوری طالب علمی یا دینی تعلیم کے نظام پر منطبق کرنا درست نہیں۔ ایک مرتبہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ کے مدرسے کا ایک طالب علم چوری کے الزام میں گرفتار ہو گیا اور جرم بھی ثابت ہو گیا تھانیدار نے مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ سے آکر شکایت کی کہ حضرت طالب علم بھی چوری کرتے ہیں؟ مولانا نے انتہائی اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ طالب علم چوری نہیں کرتے تھانیدار نے پھر کہا کہ حضرت ہمارے پاس ثبوت موجود ہے کہ فلاں صاحب آپ کے مدرسہ کے طالب علم ہیں اور انھوں نے چوری کی ہے حضرت نے پھر اطمینان کے لہجے میں جواب دیا کہ طالب علم چوری نہیں کرتے تھانیدار نے پھر چوری کے الزام اور ثبوت کا الزام مزید تاکید کے ساتھ دہرایا تو حضرت نے فرمایا کہ طالب علم چوری نہیں کرتے بلکہ چور طالب علمی کرتے ہیں حضرت کا مطلب یہ تھا کہ دینی مدرسہ کے طالب علموں کو تو چوری اور ڈاکہ وغیرہ کے گناہ ہونے کی تعلیم دی جاتی ہے اور ان کو اس طرح کے جرائم سے منع کیا جاتا ہے اس کے باوجود کوئی طالب علم ہو کر چوری کر رہا ہے تو در حقیقت وہ چور ہے جو طالب علمی کر رہا ہے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ دینی مدرسے میں کوئی طالب علم کے روپ میں بھی مجرم ہو سکتا ہے مگر وہ جرم اس کا ذاتی ہوتا ہے اس جرم کو طالب علمی کی طرف منسوب کرنا مناسب نہیں چنانچہ آج کے دور میں بعض مدارس پر چھاپے مارے جاتے ہیں اور بعض طالب علموں پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے تو اگر کسی طالب علم کے متعلق اس قسم کا الزام حقیقت میں ثابت ہو تو یہی کہا جائے گا کہ طالب علم دہشت گردی نہیں کرتے بلکہ بعض دہشت گرد طالب علمی کا روپ دھار لیتے ہیں۔