بسم اللہ الرحمن الرحیم
اما بعد
قارٸین حضرات ہر محرّر اپنی تحریرسے لوگوں کو مستفید دیکھنااوربحرظلم میں بھٹکےہوے لوگوں کوکنارہ خیرکی طرف پہنچانا چاہتا ہے
چنانچہ میں( عروہ جی)بھی اسی فکر اور سوچ کےساتھ اس میدان میں کودا ہوں
تاکہ میں بھی اپنی تحریر سے ایک ابھرتا ہوا سورج دیکھ سکوں
تو آئیے اب حقیقت کے آئینہ میں جھانکنے کا وقت آیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیارے بھائیو اور بہنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے دل و دماغ پر جب کسی قوم یا فرد کا رعب چھا جائے اور ذہنی اعتبار سے بالادست کے سامنے شکست تسلیم کر لے تو اس مرعوب شخص کی حالت زار بہت قابل رحم ہوا کرتی ہے
بظاہر کان ،آنکھ،منہ، کھوپڑی ،اور دل و دماغ سب کچھ اس کا اپنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ اپنے آقا کے دل ودماغ سے سوچتا ہے،ان کے مطلب کی بات کہتا ہے اور صرف وہی کچھ اس کو سنائی دیتا ہے جو اس کے آقا اس کو سنانا چاہتے ہیں
یہ کیفیت اور حالت کسی قوم کے لیے موت کے گھاٹ اترنے سے زیادہ تباہ کن اور المناک ہوتی ہے موت تو صرف ظاہری وجود ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہو جاتا ہے جب کہ کئی لوگوں کی موت ہی اُنہیں زندہ و جاوید بنا دیتی ہے اور اُنہیں تاریخ کے اوراق میں بقاء دوام عطا کرتی ہے۔لیکن ذہنی غلامی کی یہ پستی قوموں کو ایسے گہرے کنویں میں دھکیل دیتی ہے جہاں سوائے انانیت، ذاتی مفاد پرستی اور دو وقت کی روٹی کے سوا اور ہر سوال بے کار اور ہر مطالبہ بے جا نظر اتا ہے
یہ سانحہ اور المیہ تاریخِ انسانیت میں ایک دو نہیں بیسیوں قوموں کو پیش آیا اور اس کے نتیجے میں وہ قومی صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ گئی ۔
چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے دور میں مصر کے اندر بسنے والے بنی اسرائیل کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ فرعون کی مسلسل غلامی نے اُن کے ذہنوں کو مفلوج کر دیا تھا اور ۔ اُن کے دماغی صلاحیتیں ماٶف ہو چکی تھی وہ اپنی آزادی کی خاطر تکلیف اٹھانے کو بے وقوفی سمجھتے تھے اور سیدنا موسٰی علیہ السلام کو جو ان کے قبطیوں کے ظلم و ستم سے آزادی دلانا چاہتے تھے،اپنی آزمائشوں اور تکالیف کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے چنانچہ قرآن مجید نے اس ساری صورتحال کی منظر کشی یوں کی ہے :
موسی نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو بے شک زمین اللہ کی ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دے اور انجام بخیر پرہیزگاروں کا ہی ہوتا ہے انہوں (بنی اسراٸیل)نےکہا تیرے آنے سے پہلے بھی ہمیں تکلیف دی گئی اور تیرے آنے کے بعد بھی
فرمایا( موسی نے) تمہارا رب بہت جلد تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور اس کے بجائے تمہیں اس سرزمین کا مالک بنائے گا پھر دیکھیے گا کہ تم کیا کرتے ہو ۔،،(الاعراف:۲۸۔۲۹)
اگر قران مجید کی آیاتِ مبارکہ میں غور کیا جائے تو ایک غلام قوم کی بہت سی نشانیاں سامنےآسکتی ہیں
اور اس کی روشنی میں ہم اپنی قوم کا درجہ اور مقام متعین کر سکتے ہیں
مثال کے طور پر ایک اور آیتِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے,,
اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا پس تمہیں نجات دے دی اور ہم نے فرعونیوں کو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہی غرق کر دیا
(البقرہ:۵۰)
مفسرین کرامؒ اس آیت کے ذیل میں یہ نقطہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون کو کیوں بہرے قلزم میں غرق کیا اور پھر "وانتم تنظرون "(اور تم دیکھ رہے تھے )کے الفاظ سے خاص طور پر اس بات کی طرف توجہ بھی دلائی؟ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ دراصل فرعون کی غلامی میں رہ رہ کر بنی اسرائیل کی ذہنی حالت اس درجہ پسماندہ ہو چکی تھی کہ اگر فرعون ان کی آنکھوں سے اوجھل کہیں دور ہلاک ہوتا تو وہ کبھی اس,, سپر پاور,, کے حالات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے بلکہ ہر وقت انہیں یہی خدشہ ستاتا رہتا کہ شاید فرعون کی ہلاکت کی خبر خود فرعون کی ایجنسیوں نے اڑائی ہوگی
اور اب فرعون کسی بھی لمحے دوبارہ ہمارے اوپر مسلط ہو جائے گا لیکن جب اللہ تعالی نے فرعون کو خود انہی کی آنکھوں کے سامنے غرق کر دیا بلکہ اس کے جسم کو بھی خشکی پر پھینکوا دیا تاکہ بنی اسرائیل والے اچھی طرح فرعون کی ہلاکت کا اطمینان کر لیں۔۔ تو پھر ان کے تمام خدشات دور ہوئے
حقیقت حال یہ ہے کہ خود کفار مسلمانوں کو اپنی طاقت سے اتنا مرعوب نہیں کر سکے جتنا کام،۔، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ،۔،روشن خیالوں نے کر دکھایا ہے خیر تو نہیں تھی لیکن بہرحال کسی نہ کسی درجے میں یہ بات قابل گزارا ہوتی اگر ہم مرعوبیت کے مارے لوگ سیاسی میدان میں ہی پسپائی اختیار کرتے لیکن افسوس کہ ذہنی غلامی نے یہ وقت دکھایا ہے کہ ہم نے عالمی برادری کی رضامندی کو بھی ایک مذہب اور عقیدے کا درجہ دے دیا ہے ۔بلکہ بزور طاقت اور بزور لالچ اسے بدلنے کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں اگر اہل مغرب کو ہماری داڑھی پگڑی ،پردے ،اور برقے پر بےہودہ اعتراض کرنے کی اجازت ہے تو ہمیں بھی قدم قدم پر ان کی ثقافت کو تنقیدی نظر سے جاننے کا حق حاصل ہے ۔
ہم ہر وقت اپنے زمانے کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں حالانکہ زمانے کو برا بھلا کہنے سے ویسے ہی حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے کہ خرابی زمانے میں نہیں ہوتی بلکہ انسانوں کے اپنے اعمال بد کا نتیجہ ہوتی ہے لیکن اگر ہم غور کریں تو کئی اعتبار سے آج کا دور بہت اہم اور مبارک دور ہے ہم اپنی آنکھوں سے مشرق و مغرب میں ۔۔فریضہ جہاد ۔۔۔کا احیا دیکھ رہے ہیں اس لیے ایک اللہ کی کبریائی قدرت اور طاقت پر یقین کر لیں اور بزبان حال وقال پکار اٹھیں
اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا
وسبحان اللہ بکرة واصیلا،
جب ہم دل کی گہرائیوں سے یہ مبارک کلمات پڑھیں گے تو پھر ہمیں کفار کے طریقے ان کے فیشن اور ان کا طرز زندگی اچھا لگے گا اور نہ ہی ہم ان کی طاقت سے مرعوب ہوں گے
جب اہل کفر نے توہین رسالت توہین قران اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے ذریعے اعلان جنگ کر ہی دیا ہے تو کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم ان کی نشانیوں کو اپنے دلوں اور گھروں سے کھرچ کھرچ کر نکال دیں
میرے بھائیو اور بہنوں اب بھی وقت ہے کفار ظالم جابر کے ہر قانون کے خلاف بغاوت کریں اور خود کو بنیان مرصوص کی حقیقی تصویر پیش کریں
پھر دیکھنا دنیا کا نظام ایسے بدلے گا کہ ہر طرف خوشی ہی خوشی نعمتیں ہی نعمتیں بہاریں ہی بہاریں ہوں گی اور ہم آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے دنیا کی عروج کی لاٹھی کو تھامے ہوئے چل رہے ہوں گے
پھر ہر طرف سے صدائیں سنائی دیں گیں
اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے
🌹عروہ جی🌹
تاریخ۲٦رمضان المبارک
بعد العشاء