زندگی کو بدلنے کے لیے پوری عمر درکار نہیں ہوتی صرف ایک سال کا جنون کافی ہوتا ہے
اگر آپ آج یہ فیصلہ کر لیں
کہ اگلے 365 دن آپ کی زندگی کے "عام دن" نہیں ہوں گے
بلکہ یہ ایک "جنگ" ہوگی، تو یقین جانیں کہ سال کے آخر میں آپ خود کو پہچان نہیں پائیں گے۔
ترقی کا راستہ تین پڑاؤ پر مشتمل ہے، پہلے یہ طے کرنا کہ کیا کرنا ہے، پھر یہ سیکھنا کہ وہ کیسے ہوگا، اور آخر میں اس کام کا بے تاج بادشاہ بن جانا۔
اگر آپ سنجیدہ ہیں، تو اس سفر کا آغاز "فیصلے" سے ہوتا ہے۔
سب سے پہلے اپنی زندگی کو جنگ پر لے آئے
جنگ میں سپاہی سیر سپاٹے نہیں کرتے، وہ صرف مشن پر فوکس کرتے ہیں۔
ہر وہ سرگرمی جو آپ کو پیسہ نہیں دے رہی، کوئی ہنر نہیں سکھا رہی یا آپ کی صحت بہتر نہیں کر رہی، اسے اپنی زندگی سے کاٹ پھینکیں۔
یہ قربانی کا سال ہے، عیاشی کا نہیں۔
اس سفر میں آپ کا دماغ آپ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، لیکن اس کا سافٹ ویئر پرانا ہو چکا ہے۔ اسے اپ ڈیٹ کرنے کے لیے آپ کو وہ علم چاہیے جو اسکولوں میں نہیں ملتا۔
اپنی انا کو ختم کریں اور ان لوگوں سے سیکھیں جو راستے بنا چکے ہیں۔
محنت سے نظم و ضبط سیکھیں ۔
اس کے بعد اپنے اوزاروں کا جائزہ لیں۔
آپ کے پاس لیپ ٹاپ ہے، فون ہے، انٹرنیٹ ہے، یہ کھلونے نہیں، یہ آپ کی دکان ہیں۔
اب ایک ایسے ہنر کا انتخاب کریں جس کی مارکیٹ میں پیاس ہے۔
یاد رکھیں، اپنے شوق کے پیچھے مت بھاگیں، اس ہنر کے پیچھے بھاگیں جس کے لوگ پیسے دینے کو تیار ہے
شوق پیٹ نہیں بھرتا، ہنر بھرتا ہے۔
اس سفر کا سب سے مشکل لیکن ضروری اصول "خاموشی" ہے۔
جب آپ بیج بوتے ہیں تو اسے زمین کے اندھیرے میں دبا دیتے ہیں تاکہ وہ جڑ پکڑ سکے۔ اگر آپ اسے بار بار کھود کر لوگوں کو دکھائیں گے تو وہ مر جائے گا۔
اپنے منصوبے کسی کو نہ بتائیں، اجنبیوں سے بات کرنا اپنے دوستوں سے بات کرنے سے بہتر ہے کیونکہ قریبی لوگ اکثر آپ کے وژن کا مذاق اڑاتے ہیں۔
خاموشی سے کام کریں اور اپنی کامیابی کو شور مچانے دیں۔
ساتھ ہی اپنے ماحول کو تبدیل کریں۔
اگر آپ کا موجودہ حلقہ احباب آپ کو امیر بنا سکتا تو اب تک بنا چکا ہوتا۔
ایسے لوگوں میں بیٹھیں جو مالی طور پر آپ سے آگے ہیں، چاہے اس کے لیے آپ کو ان کی چائے یا کافی کے پیسے ہی کیوں نہ بھرنے پڑیں۔
اب میدانِ عمل میں اترنے کا وقت ہے۔
آپ کی پہلی کمائی، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، آپ کے لیے سب سے بڑی سند ہے۔
"سب جگہ" ہونے کی کوشش نہ کریں۔ صرف ایک راستہ چنیں، چاہے وہ لنکڈ ان ہو، انسٹاگرام ہو یا ای میل مارکیٹنگ اور اس پر ہتھوڑے کی طرح روزانہ ضرب لگائیں۔
لوگوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ آپ اچھا کام نہیں کرتے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ آپ زندہ بھی ہیں۔
سستے گاہک سر درد زیادہ دیتے ہیں اور منافع کم، لہٰذا پریمیم بنیں۔
سب سے اہم بات، جب پیسہ آنا شروع ہو تو اسے خرچ کرنے کی غلطی نہ کریں۔
نئی گاڑی یا مہنگے کپڑے آپ کی ترقی کے دشمن ہیں۔
اس پیسے کو ایندھن سمجھیں اور اسے واپس اپنے کاروبار میں جھونک دیں۔
اسے جنونیوں کی طرح ری انویسٹ کریں،اپنی تعلیم پر، بہتر ٹولز پر اور ٹیم پر۔
امیر لوگ پیسے کو تجوری میں نہیں رکھتے، وہ اسے کام پر لگاتے ہیں۔
یہ مت سوچیں کہ راتوں رات محل کھڑا ہو جائے گا، پہلا سال بنیاد رکھنے کا ہے، تین سال راستے کو سمجھنے کے اور دس سال بادشاہت قائم کرنے کے۔
وقت ویسے بھی گزر جائے گا، فیصلہ آپ کا ہے کہ اسے گزارنا ہے یا اسے استعمال کرنا ہے۔
عائشہ ❤