ادب دراصل انسان کے باطن کا آئینہ اور علم کا۔ زیور۔ ہے۔ علم کی بلندی اسی وقت نافع بنتی ہے جب اس کے ساتھ ادب کی روشنی بھی شامل ہو۔ اگر علم درخت ہے تو ادب اس کی خوشبودار شاخ ہے، جو اسے ثمر آور بناتی ہے۔
قرآنِ مجید نے ادب کی اصل تعلیم خود اپنے اسلوبِ خطاب سے دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ" (سورۃ الحجرات: 2)
یعنی اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو۔
یہ آیت محض ظاہری آداب کی ہدایت نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ادب ایمان کا حصہ ہے۔ جو نبی ﷺ کے سامنے ادب سیکھ گیا، اس نے دراصل ایمان کی حقیقت پالی۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَلَا يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا، وَلَا يَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ۔ (ترمذی)
یعنی وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، بڑوں کی عزت نہ کرے، اور عالم کا حق نہ پہچانے۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ادب علم کا لازمی تقاضا ہے؛ بغیر ادب کے علم محض الفاظ کا مجموعہ بن جاتا ہے، روح اور برکت سے خالی۔
ادب وہ جوہر ہے جو انسان کو غرور سے محفوظ رکھتا ہے۔ علم بغیر ادب کے تکبر میں بدل جاتا ہے، اور ادب بغیر علم کے اندھی تقلید بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم نے فرمایا:
"مَن تَأدَّبَ قبلَ أن يتعلَّمَ نجا، ومَن تَعلَّمَ قبلَ أن يتأدَّبَ زلَّ"
یعنی جس نے علم سے پہلے ادب سیکھا وہ نجات پا گیا، اور جس نے ادب سے پہلے علم حاصل کیا وہ پھسل گیا۔
ادب دراصل علم کے دروازے کی چابی ہے۔ جو شاگرد استاد کے سامنے مؤدب رہتا ہے، اس کے دل پر علم کے انوار نازل ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں زید بن ثابت کے دروازے پر بیٹھا رہتا تھا، وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کہتے:
"هكذا أُمِرنا أن نفعلَ بعلمائنا"
ہمیں اپنے علماء کے ساتھ یہی ادب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہی وہ ادب تھا جس نے ان کے علم میں برکت پیدا کی اور انہیں امت کے امام بنا دیا۔
علم کا نور صرف اُن دلوں میں اترتا ہے جو ادب کے نور سے منور ہوں۔ بےادب طالبِ علم علم کے دروازے پر دستک تو دیتا ہے، مگر اس کے اندر داخل نہیں ہو پاتا۔
ادب علم کو مہکاتا ہے، دلوں کو نرم کرتا ہے، اور زبان کو حکمت عطا کرتا ہے۔ بغیر ادب کے علم تیز دھار تلوار بن جاتا ہے جو خود انسان کو زخمی کر دیتا ہے۔
پس طالبِ علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ادب کو علم کی بنیاد بنائے۔ استاد، کتاب، اور علم کی مجلس کا احترام کرے۔ کیونکہ "الأدب تاجُ العلم" — ادب علم کا تاج ہے۔
جو ادب سے خالی ہے، وہ خواہ کتنا ہی علم رکھتا ہو، اس کا علم زائل ہو جاتا ہے؛ اور جو ادب سے آراستہ ہے، اللہ اس کے علم میں نور، اثر اور بقا عطا فرماتا ہے۔