آج ہر شخص خصوصاً مسلمان پر انگلش لباس کی طرح انگلش زبان کا اتنا گہرا اثر چھایا ہوا ہے کہ کم سے کم‌ تر پڑھا لکھا بھی اردو کا استعمال اس وقت کرتا ہے جب انگلش کا ورڈ اسکی ڈکشنری میں نظر نہ آئے اور اردو لشکری زبان ہے جس میں ہر زبان کی ملاوٹ ہے مگر کیا اردو کے پاس الفاظ کی کوئی کمی ہے ؟ اسمیں دوسری زبان کی ملاوٹ کیوں .. ؟؟ اگر ہم خالص اردو کا استعمال کریں تو اسکے فصیح و بلیغ الفاظ کا معلوماتی اضافہ ہو ۔مگر ہم خود اردو کا استعمال نہیں کرتے اور غیروں سے ترقی کی امید کرتے ہیں ، ہم خود اردو زبان کو اتنا پاورفل نہیں بنا رہے ہیں کو وہ انگلش کے سہارے کے بغیر اپنا وجود باقی رکھے ہم یقیناً کہتے ہیں اردو جتنی حسین زبان کوئی نہیں یہ کسی بھی چیز کو خوبصورتی کا بےمثال پیکر عطاء کرتی ہے اس زبان کے الفاظ جب تاج محل کے حسن کا لبادہ اوڑھتے ہیں تو یہ فرق مشکل ہو جاتا ہے کہ تاج محل کا وہ حسن قابلِ ستائش ہے یا وہ جو خوبصورت الفاظ کے سانچے میں ڈھل کر صفحہ قرطاس پر بکھرا ۔۔۔
قطب مینار کی وہ بلندیاں اور لال قلعہ کی وہ مضبوطی قابلِ فخر ہے جو ایک مجسمہ اور حقیقت ہے یا وہ جو الفاظ کے حسین ڈھانچے میں اپنا وجود بنائے ہوئے ہے....
اگر ہم اردو کتابوں کے پڑھنے کا مزاج بنا لیں تو اردو زبان کی آپ سے یہی فریاد ہے کہ دوسری زبانوں پر منحصر نہیں بلکہ اردو زبان پڑھنے کے ساتھ ساتھ اچھی تحریریں لکھنے کا شوق پیدا کرئیے ۔بغیر اردو پڑھے اردو کی ترقی کا خواب ایسا ہے جیسے بغیر بنیاد کے چھت بنانے کا خواب..!!🤍

*فاطم بنتِ حافظ*