زندگی پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ ایک ایسا میدانِ عمل ہے جہاں مسلسل جدوجہد اور امتحانات کا سامنا رہتا ہے۔ اگر اس سفر میں آپ حقیقی مسرت اور کامیابی کے خواہشمند ہیں، تو اپنے اندر ایک "باکردار جوش" پیدا کیجیے۔
زندگی کے ہر چھوٹے بڑے کام کو بے دلی سے نہیں، بلکہ کامل جوش اور جذبے کے ساتھ گلے لگائیں۔ اسے اپنا آخری موقع سمجھ کر، اپنی پوری صلاحیتیں اور پوری جان لڑا دیں۔ جب آپ کسی عمل کو اتنی شدت سے اپناتے ہیں، تو اس کی "مشقت" ایک "خوشی" میں بدل جاتی ہے اور وہ کام بوجھ نہیں، بلکہ ایک فن بن جاتا ہے۔ یہ جنوں ہی ہے جو ناممکن کو ممکن بناتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ زندگی مسائل سے خالی نہیں ہوتی، مگر یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ کوئی بھی مسئلہ دائمی اور مستقل نہیں ہوتا۔ مسائل آندھیوں کی طرح آتے ہیں اور پھر گزر جاتے ہیں۔ ان کی نوعیت آپ کی "ذہنیت" (Mindset) پر منحصر کرتی ہے۔
آپ کے پاس دو راستے ہیں:
یا تو ان مسائل کو اپنے اعصاب پر سوار کر لیں، مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہو جائیں اور ایک سیدھی سی بات کو اپنی "پیچیدہ سوچ" سے مزید الجھا دیں۔
یا پھر، چہرے پر مسکراہٹ سجا کر، ہمت اور حوصلے کے ساتھ ان مسائل کا سامنا کریں۔ یاد رکھیے! ایک مسکراتا ہوا ذہن مسائل کا حل تیزی سے ڈھونڈتا ہے، جبکہ ایک پریشان ذہن مسائل کا گھیراؤ بڑھاتا ہے۔
مسائل تو رہیں گے، لیکن آپ کا "جوش" اور آپ کی "مسکراہٹ" وہ ہتھیار ہیں جن سے آپ ان پر فتح پا سکتے ہیں۔ پرجوش رہیے، مسکراتے رہیے، کہ اسی میں زندگی کی حقیقی جیت ہے۔
از قلم: زا-شیخ