جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں اور نہ ہی یہ صرف میدانِ جنگ تک محدود ہے؛ بلکہ اللہ کی راہ میں عورت کے لیے بھی عظیم میدان ہیں جن میں وہ سچائی اور اخلاص کے ساتھ جدوجہد کرتی ہے۔ وہ حق کی بات کہہ کر دلوں کو زندہ کرتی ہے، اپنی مدد اور تعاون سے دوسروں کا سہارا بنتی ہے، اور مشکلات کے وقت صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹی رہتی ہے۔

 اس کا سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ وہ ایک ایسی نسل کی تربیت کرے جو ایمان اور عزتِ نفس سے بھرپور ہو۔ وہ ان کے دلوں میں حق بٹھاتی ہے اور انہیں سچائی، استقامت اور دین کی نصرت کا سبق دیتی ہے۔

جب اس کی نیت سچی ہو اور عمل خالص ہو تو یہ سب کام اللہ کی راہ میں جہاد بن جاتے ہیں، جن پر اسے اجر ملتا ہے۔ آج وہ جو بیج بوتی ہے وہی کل امت کے لیے نور اور قوت بن سکتا ہے۔

 سچی نیتیں عام اعمال کو بھی جہاد کا درجہ دے دیتی ہیں۔

 اس لیے اے بہن! حق کی نصرت میں اپنے کردار کو کبھی معمولی نہ سمجھو؛ ایک سچی بات، ایک مخلصانہ مدد اور ایمان و عزت پر تربیت یافتہ ایک نسل اللہ کے نزدیک بہت بڑا عمل بن سکتی ہے، اگر نیت سچی اور عمل خالص ہو۔

ہر بہن کے لیے ایک نصیحت