شیخ محمد غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

میں نے ایک ایسے آدمی سے کہا جو شراب پینے کا عادی تھا:
“تم اللہ کی طرف توبہ کیوں نہیں کرتے؟”

وہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگا، رو پڑا اور بولا:
“اے شیخ! میرے لیے دعا کیجیے۔”

میں اس کے حال کے بارے میں سوچنے لگا اور میرا دل اس پر نرم ہو گیا۔ اس کے آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی کوتاہی کو کس قدر محسوس کرتا ہے، اپنی نافرمانی پر غمگین ہے اور توبہ کی آرزو رکھتا ہے۔

بلا شبہ وہ ایک مومن ہے، مگر ایک آزمائش میں گرفتار ہو گیا ہے۔ وہ مجھ سے مدد چاہتا ہے تاکہ توبہ کے قریب ہو سکے اور اللہ کے قریب ہو جائے۔

میں نے اپنے دل میں کہا:
شاید میرا حال بھی اسی آدمی جیسا ہو، بلکہ اس سے بھی بدتر۔

یہ درست ہے کہ میں نے کبھی شراب نہیں پی؛ کیونکہ جس ماحول میں میں پلا بڑھا ہوں وہاں اس کا رواج نہیں تھا۔

لیکن ممکن ہے میں غفلت کی شراب پی چکا ہوں؛ یہاں تک کہ کئی بار اپنے پروردگار سے دور ہو گیا ہوں اور اس کے حقوق کو بھول گیا ہوں۔

وہ اپنی کوتاہی پر رو رہا ہے،
مگر میں اور بہت سے دوسرے لوگ اپنی کوتاہیوں پر نہیں روتے؛
کیونکہ شاید ہم اپنے نفس کے دھوکے میں آ گئے ہوں۔

میں اس آدمی کی طرف متوجہ ہوا جو مجھ سے دعا کی درخواست کر رہا تھا تاکہ وہ شراب چھوڑ دے، اور میں نے کہا:

آؤ ہم دونوں اپنے لیے دعا کریں:
اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا، اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو یقیناً ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
(سورۃ الأعراف: 23)

اصل ہدایت یہ ہے کہ انسان دوسروں کے گناہوں کو نہیں بلکہ اپنی کوتاہیوں کو دیکھے۔
جو شخص اپنے گناہ پر نادم ہے وہ اللہ کے قریب ہے، اور جو اپنے آپ کو بے عیب سمجھتا ہے وہ نفس کے دھوکے میں ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نفس کے فریب سے بچائے 
آمین یا رب الشھداء والمجاھدین