معجزہ کی حقیقت
بقلم: معاذ حیدر
٢٣/ رمضان ١٤٤٧ھ
انبیاء کرام -علیہم السلام- کی بعثت نہایت پر فتن دور میں ہوا کرتی ہے، جس میں نافرمانی اپنے عروج پر ہوتی ہے، طغیانی کی بادِ صرصر تیز و تند رہتی ہے، عقل میں غور و فکر کی صلاحیت اکثر باقی نہیں رہتی، باطل عقائد ذہن ودماغ میں پیوست رہتے ہیں، بری چیزیں اعصاب پر چھائی رہتی ہیں۔
اللہ تعالی اپنے ان نیک بندوں کی تصدیق کے لیے خرقِ عادت افعال ظاہر فرماتے ہیں، جن میں نفس کی قوت کا کوئی اثر نہیں ہوتا، جسم اور روح کے تصرفات سے یہ افعال بالاتر ہوتے ہیں، مقدورِ بشری سے پرے اور عادی اسباب سے خارج ہوتے ہیں۔
اسے نبوت کی علامت قرار دی گئی ہے، دراصل یہ قدرت علی الاطلاق کے مظاہر ہیں، یہ مدارِ نبوت نہیں ہے؛ بل کہ ثمرۂ نبوت ہیں، معجزہ کا "اعجازی کرشمہ" کرشمۂ خداوندی کا شاہکار ہوتا ہے، خارجی مؤثرات کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا، مادّی عروج سے ہرگز اس کا اعجاز متاثر نہیں ہوسکتا، زمانے کی کروٹیں اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں، مادی قوانین کے شکنجے میں اسے کسا نہیں جاسکتا، صبحِ قیامت تک کوئی شخص اس میں سببِ طبعی متعین نہیں کرسکتا، منحرف طبیعتیں اس میں مادی خاصیت کا احتمال نہیں نکال سکتیں۔
درحقیقت یہ قدرتِ الہیہ کے قاہرانہ افعال و عجائبات ہیں، مشیتِ ایزدی کے بغیر اس کا ظہور ممکن نہیں، "نوامیسِ طبیعیہ" پر قیاس کرنا چوک ہے، بل کہ "نوامیسِ الہیہ" اس کی کسوٹی ہے، اسے ظاہری اسباب وعلل کے تابع بنانے کی بالکل کوئی گنجائش نہیں ہے، اس کی حقیقت کو پورے طور پر حل کرنا نبوت کی حقیقت کی طرح مشکل ہے، اس کی صحیح حقیقت سے آگاہی کے لیے "حدیثی اور قرانی معجزات" کا بار بار مطالعہ بے حد مفید ہے۔