تحریر: محمد مسعود رحمانی

انسانی معاشرے کی پاکیزگی اور بقا کا دارومدار اخلاقی اقدار کی پاسداری پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں جو جذباتی اور جسمانی تقاضے رکھے ہیں، ان کی تکمیل کے لیے "نکاح" کا ایک مقدس اور خوبصورت راستہ عطا فرمایا۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے اپنی خود ساختہ رسموں، نمود و نمائش اور بھاری اخراجات کے ذریعے نکاح کو اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ ایک عام نوجوان کے لیے شادی کرنا کسی پہاڑ کو سر کرنے جیسا ہو گیا ہے۔ اس کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معاشرے میں زنا اور بے حیائی کے راستے خود بخود آسان ہوتے جا رہے ہیں۔

نکاح کی مشکلیں: ایک المیہ

آج ایک متوسط طبقے کا نوجوان جب شادی کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے سامنے دینداری سے زیادہ دنیاوی معیار رکھ دیے جاتے ہیں۔ اونچا خاندان، بڑی نوکری، ڈھیر سارا جہیز، اور پھر شادی کی تقریبات پر اٹھنے والے لاکھوں کے اخراجات—یہ وہ رکاوٹیں ہیں جو ایک حلال رشتے کی راہ میں دیوار بن جاتی ہیں۔ جب ایک نوجوان اپنی جائز ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کوئی حلال راستہ نہیں پاتا اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے برسوں انتظار کرنے پر مجبور ہوتا ہے، تو وہ ذہنی انتشار اور قلبی بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے۔

زنا کی آسانی: ایک لمحہ فکریہ

دوسری طرف، ٹیکنالوجی کے اس دور میں گناہ تک رسائی محض ایک کلک کی دوری پر ہے۔ انٹرنیٹ، فحش مواد اور آزادانہ میل جول نے زنا کے اسباب کو ہر گلی کوچے میں پھیلا دیا ہے۔ جب نکاح کے لیے ہزاروں شرائط ہوں اور زنا کے لیے صرف ایک تنہائی کافی ہو، تو کمزور ایمان والے نوجوانوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ ہم نے مسجدوں اور مدرسوں میں نکاح کے فضائل تو بیان کیے، لیکن عملاً اپنے گھروں میں نکاح کو مشکل ترین عمل بنا دیا۔

نبویؐ تعلیمات اور ہمارا رویہ

نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم بوجھ (اخراجات) ہو۔" صحابہ کرام کے دور میں نکاح اتنا سادہ تھا کہ ایک لوہے کی انگوٹھی یا چند قرآنی آیات کی تعلیم کو بھی مہر تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ وہاں مقصد عفت اور پاکیزگی کا حصول تھا، نہ کہ برادری میں واہ واہ کروانا۔

حل کیا ہے؟

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں بے حیائی کی آگ سے محفوظ رہیں، تو ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

سادگی کو اپنائیں: شادی کی فضول رسومات اور جہیز جیسی لعنت کو ختم کر کے مسنون نکاح کو رواج دیں۔

کردار کو ترجیح دیں: رشتہ طے کرتے وقت بینک بیلنس کے بجائے اخلاق اور دینداری کو بنیاد بنائیں۔

والدین کی ذمہ داری: والدین کو چاہیے کہ جب بیٹا یا بیٹی جوان ہو جائیں، تو ان کی شادی میں بلاوجہ تاخیر نہ کریں۔

معاشرتی بائیکاٹ: نمائش زدہ شادیوں کے بجائے سادگی سے ہونے والی شادیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

خلاصہ

معاشرے کا امن اس بات میں ہے کہ حلال کا راستہ اتنا کشادہ ہو کہ ہر شخص اس پر آسانی سے چل سکے، اور حرام کا راستہ اتنا کٹھن ہو کہ کوئی اس طرف جانے کا سوچے بھی نہ۔ یاد رکھیے! اگر ہم نے آج نکاح کو آسان نہ کیا، تو کل ہماری مسجدوں کے ممبر اور محراب بھی معاشرے کو اخلاقی تباہی سے نہیں بچا سکیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم رسم و رواج کی زنجیریں توڑیں اور سنتِ رسول ﷺ کو اپنا کر ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد رکھیں۔