انسان کی زندگی میں کچھ موڑ ایسے آتے ہیں جہاں وہ لفظوں کا سہارا تو لینا چاہتا ہے، مگر زبان ساتھ نہیں دیتی۔ میں آج اپنی کہانی نہیں، بلکہ اس کروڑوں نوجوانوں کے دل کی دھڑکن رقم کر رہا ہوں جو شرافت کی چادر اوڑھے، خاموشی سے اپنے اندر اٹھنے والے جذباتی طوفانوں سے لڑ رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جوانی طاقت اور امنگ کا نام ہے، لیکن کبھی کبھی یہی جوانی ایک ایسی آزمائش بن جاتی ہے جس کا ذکر نہ انسان اپنوں سے کر سکتا ہے اور نہ غیروں سے۔ ایک عجیب سی بے چینی ہے جو سائے کی طرح ساتھ رہتی ہے۔ دن کام کاج میں گزر جاتا ہے، تسبیح کے دانوں پر ذکر بھی جاری رہتا ہے، سجدوں میں سر بھی جھکتا ہے، مگر دل کے کسی گوشے میں ایک ایسی پیاس باقی رہ جاتی ہے جو کسی صورت بجھنے کا نام نہیں لیتی۔
یہ پیاس کسی دنیاوی جاہ و حشم کی نہیں، بلکہ اس حلال رفاقت کی ہے جسے اللہ نے "سکون" کا نام دیا ہے۔ جب انسان اپنی نظروں کو بچاتا ہے، جب وہ گناہوں کی دلدل سے نکلنے کے لیے تڑپتا ہے، اور جب وہ تنہائی کے اندھیروں میں اپنے رب سے گڑگڑا کر حلال راستے کی دعا مانگتا ہے، تو اس وقت کی بے چینی کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس سے گزر رہا ہو۔
ہمارے معاشرے میں "حیا" کے پردے اتنے گہرے ہیں کہ ایک بیٹا اپنے باپ سے یا ایک بھائی اپنی بہن سے یہ نہیں کہہ پاتا کہ: "میں اندر سے ٹوٹ رہا ہوں، مجھے ایک ساتھی کی ضرورت ہے جو میرے جذبات کا محرم ہو، جو مجھے گناہوں سے بچا سکے اور جس کے ساتھ میں اپنی زندگی کی خوشیاں بانٹ سکوں۔"
حالات کبھی حق میں نہیں ہوتے، کبھی وسائل کی کمی آڑے آتی ہے تو کبھی سماجی رواج پیروں کی زنجیر بن جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان کا دل ایک ایسی جنگ کا میدان بن جاتا ہے جہاں ایک طرف فطرت کے تقاضے ہیں اور دوسری طرف تقویٰ کی دیوار۔ اس کشمکش میں کبھی کبھی پاؤں پھسل بھی جاتے ہیں، انسان گناہوں کی آغوش میں پناہ تلاش کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے، لیکن حاصل صرف مزید شرمندگی اور مزید بے چینی ہوتی ہے۔
میں ان تمام والدین سے کہنا چاہتا ہوں جو اپنے بیٹوں کی خاموشی کو ان کی "آسودگی" سمجھتے ہیں: کبھی اپنے جوان بیٹے کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں، اس کی بڑھتی ہوئی سنجیدگی اور تنہائی پسندی کے پیچھے چھپے ہوئے کرب کو محسوس کریں۔ نکاح کو اتنا آسان بنا دیں کہ گناہ مشکل ہو جائے۔
اور اپنے جیسے ان تمام دوستوں سے کہوں گا جو اس آگ میں جل رہے ہیں: یاد رکھو! تمہاری یہ تڑپ اللہ سے تمہارے تعلق کا امتحان ہے۔ اگر آج تم بے چین ہو کر اس کے سامنے جھک رہے ہو، تو یہ بے چینی تمہیں ہلاک کرنے کے لیے نہیں بلکہ تمہیں پاک کرنے کے لیے ہے۔ وہ جو دلوں کے بھید جانتا ہے، وہ تمہاری اس خاموش پکار کو بھی سن رہا ہے جو تمہارے لبوں تک نہیں آپائی۔
صبر کی یہ گھڑی کٹھن ضرور ہے، مگر یاد رہے کہ اندھیری رات کے بعد ہی طلوعِ سحر کا وعدہ ہے۔