بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازقلم محمودالباری ............................
نااہل قیادت – امت کا زوال
_____-_---_________
الحمد للہ الذی أمرنا بالعدل والإحسان، ونهانا عن الظلم والخیانۃ، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شریک له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، صلوات اللہ وسلامه علیه...
🔹 تمہید:
محترم حضرات!
آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو ہمارے گھروں، ہماری مساجد، ہماری تنظیموں اور ہماری امت کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
آج ہم جس بیماری میں مبتلا ہیں، اس کا نام ہے:
"نااہل قیادت"
یہ صرف ایک مسئلہ نہیں، یہ امت کی بربادی کا سبب ہے۔
نبی ﷺ نے ایک جملہ کہا تھا جو آج ہمارے سامنے پورا اتر رہا ہے:
"جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو" (بخاری)
سوچو! کیا یہ حدیث آج ہمارے حالات کی تصویر نہیں؟
کیا ہم نہیں دیکھ رہے کہ دین کے نام پر دنیا کے سودے ہو رہے ہیں؟
کیا ہم نہیں دیکھ رہے کہ مسجدوں کے فیصلے کون کر رہا ہے؟ وہ لوگ جو خود نماز کے پابند بھی نہیں!
🔹 قرآن کا حکم اور ہماری غفلت
اللہ تعالیٰ نے حکم دیا:
"إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا" (النساء:58)
"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو دو۔"
یہ صرف مال کی امانت نہیں، یہ قیادت بھی امانت ہے۔
یہ منصب بھی امانت ہے۔
یہ کرسی بھی امانت ہے۔
لیکن آج ہم نے کیا کیا؟
ہم نے دولت کو معیار بنا لیا۔
ہم نے شہرت کو کمال سمجھ لیا۔
ہم نے تقویٰ، دیانت اور علم کو پیچھے ڈال دیا۔
🔹 ایک سوال: ہم کہاں کھڑے ہیں؟
محترم حضرات!
آج آپ کی مسجد کے متولی کون ہیں؟
کیا وہ شخص قرآن کا علم رکھتا ہے؟
کیا وہ نماز کا پابند ہے؟
کیا وہ دین کا خیرخواہ ہے؟
یا وہ صرف پیسوں والا ہے؟
آج ہماری تنظیموں کے صدر کون ہیں؟
کیا وہ امت کے غمخوار ہیں؟
یا اپنی جیب اور اپنی شہرت کے غلام؟
یہ سوال ہم سب سے ہے۔
کیونکہ حدیث کہتی ہے:
"تم سب ذمہ دار ہو، اور تم سے تمہاری ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا" (بخاری و مسلم)
🔹 تاریخی سبق
یاد کرو! خلافتِ راشدہ کیوں کامیاب تھی؟
کیونکہ قیادت اہل لوگوں کے ہاتھ میں تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"جو شخص مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنے اور کسی نااہل کو عہدہ دے، وہ اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ خیانت کرتا ہے"۔
آج یہ خیانت عام ہو چکی ہے۔
رشوت، سفارش اور تعلقات کے سائے میں عہدے بانٹے جا رہے ہیں۔
🔹 موجودہ دور کا منظر
آج ہماری مسجدیں تنازع کا شکار کیوں ہیں؟
کیونکہ وہاں کے فیصلے دیندار نہیں، دنیا دار کر رہے ہیں۔
آج تنظیمیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیوں ہیں؟
کیونکہ ان کے صدر شہرت پسند ہیں، دیانت دار نہیں۔
اور ہم خاموش ہیں…!
ہم یہ ظلم دیکھ رہے ہیں اور کچھ نہیں کر رہے۔
کیا یہ جرم نہیں؟
🔹 نااہل قیادت کے نتائج
1. عدل ختم
2. دین کمزور
3. نوجوان دین سے بدظن
4. ادارے ذاتی مفاد کے غلام
5. امت کا شیرازہ بکھر جانا
یہ صرف ایک ادارے کا نقصان نہیں، یہ امت کی تباہی کا آغاز ہے!
🔹 عملی اپیل
📢 محترم حضرات! آج فیصلہ کریں!
ہم رشوت اور سفارش کے دروازے بند کریں گے۔
ہم عہدہ صرف اہل کو دیں گے۔
ہم دولت کو نہیں، دیانت کو ترجیح دیں گے۔
ہم خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔
📢 یاد رکھیں! جو نااہل کو قیادت دیتا ہے، وہ خیانت کرتا ہے۔
📢 اور خیانت جہنم کا راستہ ہے۔
آج اگر ہم یہ روش نہیں بدلتے تو کل ہماری اولاد بھی دین سے محروم ہو جائے گی۔
آج اگر ہم نے امت کو بچایا نہیں تو آنے والی نسلیں ہمیں بددعا دیں گی۔
کیا ہم یہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟
کیا ہم اللہ کے سامنے جواب دے سکتے ہیں؟
اگر نہیں، تو آج اٹھیں!
اپنی مسجد، اپنے ادارے، اپنے شہر کو اہل قیادت دیں۔
🔹 اختتام اور دعا
اے اللہ! ہمیں امانت کو اس کے اہل کے سپرد کرنے کی توفیق دے۔
اے اللہ! ہمیں نااہل قیادت کے فتنوں سے محفوظ رکھ۔
اے اللہ! ہمارے اداروں کو دیانت دار قیادت عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ