(46)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الیکشن اور قوم کا دلال
_______________
قوم کے سوداگر. ضمیر کے قاتل ہیں
تمہید
الیکشن صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ قوم کے شعور، ایمان اور دیانت کا امتحان بھی ہے۔
یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہر فرد کے ضمیر کا وزن تولا جاتا ہے _ کوئی اپنی رائے کو امانت سمجھتا ہے، تو کوئی اسے مالِ تجارت۔
اسی موقع پر کچھ ایسے چہرے بھی ابھرتے ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر قوم کے مقدس اعتماد کو بیچ ڈالتے ہیں۔ یہی وہ کردار ہیں جنہیں قوم کے دلال کہنا زیادہ مناسب ہے۔
الیکشن کا موسم آتے ہی کچھ چہرے اچانک چمکنے لگتے ہیں _ چاپلوسی، وعدے، اور پیسوں کی چمک کے بیچ وہ لوگ ابھر کر سامنے آتے ہیں جو اپنے آپ کو قوم و سماج کا نمائندہ کہلاتے ہیں، مگر دراصل قوم کے دلال ہوتے ہیں۔
یہ وہ ضمیر فروش ہیں جو اپنے محلے، برادری اور قوم کے نام پر ووٹوں کا سودا کرتے ہیں۔ عام لوگ جنہیں کچھ خبر بھی نہیں ہوتی، ان کے نام پر یہ “سیاسی سوداگری” کا کاروبار چلاتے ہیں۔ نیتاؤں کے دروازے پر حاضری دیتے ہیں، خوشامد کرتے ہیں، اور چند نوٹوں یا کسی وقتی فائدے کے لیے اپنی عزت، ایمان اور قوم کا مستقبل بیچ ڈالتے ہیں۔
ان کا اصل مقصد نہ قوم کا بھلا ہے، نہ ملت کی بقا — ان کی نظر صرف “تجوری بھرنے” پر ہوتی ہے۔ یہ وہ چہرے ہیں جو دن میں پارسائی اور دینداری کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر راتوں میں قوم کے ووٹوں کا نرخ طے کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں مٹھاس، مگر نیت میں زہر ہوتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے افراد اکثر سماج میں کچھ رعب و دبدبہ رکھتے ہیں، ان کی بدتمیزی کے خوف سے لوگ خاموش رہتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے _ قومیں تبھی برباد ہوتی ہیں جب ایمان کے بجائے مفاد کو معیار بنایا جائے۔
لہٰذا ہوشیار رہیں!
اپنے سماج، اپنے پڑوس، اور اپنی برادری کے ان نام نہاد رہنماؤں کو پہچانیں جو “قوم کے نام پر دلالی” کرتے ہیں۔ ان کے جھانسے میں نہ آئیں، ان کا سماجی بائیکاٹ کریں۔
یہی آپ کے ضمیر کی حفاظت بھی ہے اور آپ کی قوم کی بقا بھی۔
اختتامیہ
قوم کی تقدیر ووٹ سے بنتی ہے _ اور ووٹ ضمیر کا امانت ہے۔
اگر ہم نے اپنی امانت ان ضمیر فروشوں کے ہاتھ بیچ دی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے شعور کو جگائیں، اپنی رائے کی حرمت کو پہچانیں، اور ان چہروں سے ناطہ توڑیں جو قوم کی بنیادوں پر مفاد کا کاروبار کرتے ہیں۔
یاد رکھیے —
قوموں کا مستقبل ووٹ سے نہیں، ووٹ کے پیچھے چھپے ضمیر سے بنتا ہے۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com