سکوتِ قلم ایک اذیت، ایک مجبوری کی داستان
مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی ✍️
آج قلم ہاتھ میں لیتے ہوئے دل کی کیفیت یکسر مختلف ہے۔
الفاظ تو ساتھ دے رہے ہیں، مگر جذبات جیسے منتشر ہونے کو ہیں۔
وقت کی قلت، بڑھتی ہوئی مصروفیات اور حیات کی متنوع ذمہ داریاں اب اس حد تک غالب آچکی ہیں کہ قلم کو وہ مہلت میسر نہیں رہی جو کبھی اس کی شناخت اور امتیاز تھی۔
حالات نے ایسا رخ اختیار کر لیا ہے
کہ وقت جیسے انگلیوں کی گرفت سے پھسلتا جا رہا ہے۔
مشاغلِ زندگی نے اس شدت سے حصار قائم کر لیا ہے کہ قلم کو وہ فراغت نصیب نہیں
جس کے بغیر اظہار کو عدل و توازن حاصل نہیں ہوتا۔
اسی مجبوری کے تحت آج اس پلیٹ فارم سے رخصت ہونے کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے۔
ان شاء اللہ
اب تحریریں اس تسلسل اور تواتر کے ساتھ یہاں پیش نہیں ہو سکیں گی،
بلکہ کبھی کبھار، کسی خاص موقع یا تاریخ کی مناسبت سے یہ صدا دوبارہ سنائی دے سکے گی۔
یہ سطور رقم کرتے ہوئے ہاتھوں میں ایک ارتعاش سا محسوس ہو رہا ہے،
کیونکہ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں،
بلکہ ایک عادت، ایک وابستگی اور ایک روحانی تعلق تھا
جو فی الوقت پس منظر میں جا رہا ہے۔
ان تمام احباب کا تہِ دل سے ممنون ہوں
جو ہر تحریر کے منتظر رہتے تھے،
انہیں محبت سے پڑھتے، سراہتے اور اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے تھے۔
آپ کی خلوص آمیز توجہ ہی اس سفر کا حقیقی سرمایہ اور قوت رہی۔
یہ رخصتی ہرگز حتمی وداع نہیں بلکہ حالات کی ایک ناگزیر تحدید ہے۔
اگر زمانہ نے مہلت عطا کی تو یہی قلم اور یہی احساسات دوبارہ اسی شدت اور صداقت کے ساتھ آپ کے درمیان لوٹ آئیں گے۔
دعاگو ہوں کہ رب کریم اس تعلق کو استقامت عطا فرمائے
اور اس عارضی سکوت کو بھی خیر و برکت کا وسیلہ بنا دے۔
🥹🥹🥹🥹
آمین یارب العالمین