شادی شُدہ جوڑوں کو اکثر اس بات پر جھگڑتے دیکھا یے
کہ
ھماری شادی“ بےجوڑ ھوئی ہے
کیونکہ میرا جیون ساتھی مُجھ سے بالکل مُختلف ہے
بلکہ الٹ ہے میرے جیسا نہیں.
تو جان لیجئے
جوڑا ھمیشہ الٹ ھی ھوتا ہے تب ھی جوڑا بنتا ہے.
کُچھ نہیں تو اپنے جوتوں پر ھی غور کر لیں.
دونوں بظاہر ”پرفیکٹ“ لگتے ہیں
لیکن
غور کیجیے تو دونوں ھی ایک دوسرے سے مُختلف ہیں.
ایک جیسے ھوں تو انکا جوڑ پھر کوئی دوسرا ہے ھی نہیں.
یاد رکھیئے...
ھم سب دراصل”پزل“ میں پیدا ھوئے ہیں
اور جُڑ کر ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں
ایک کی کمی دُوسرا پُوری کرتا ہے.
اس لیئے اپنا جیون کسی غلط فہمی میں برباد نہ کریں.
چیزوں کو قبول کرنا سیکھیں.
نکاح کے وقت قبول ہے
محض الفاظ نہیں تھے
بلکہ یہ عہد تھا کہ تمام کمی بیشی کے ساتھ سب کچھ قبول ہے
زندگی رومانوی ناولوں، کے فرضی قصے کہانیوں، ڈراموں اور فلموں سے یکسر مُختلف ھوتی ہے.
ایک دُوسرے کو ”جیسا ہے، جہاں ہے“کی بُنیاد پر قبول کیجیے.
یہی قبولیت، یہی ایکسیپٹینس زندگی میں سکون لاتی ہے.
ایکسیپٹ کرنا سیکھئے. ایکسیپٹ کر لیئے جائیں گے.
خُوابوں اور سرابوں کے پیچھے دوڑنے والے بالآخر ”بندگلی“ میں جاپہنچتے ہیں
جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ھوتا، واپسی کی ساری راہیں بند ھوجاتی ہیں.
اپنی سو فیصد پسند کا جوڑا بنانے کی جُستجو کرنا صرف ایک فلسفہ ہے.
لیکن...
اگر ازدواجی زندگی کی رعنائیوں کو انجوائے کرنا ہے تو
مقبولیت نہیں بلکہ قبولیت کو معیار بنائیں زندگی آسان ہو جائے گی
عائشہ ❤