*یہ حق ہے سب سے بہتر عبادت شباب کی لیکن* 
*یہی گناہ کا زمانہ ہے کیا کیا جائے*

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسانی زندگی کا سب سے قیمتی اور توانا دور *شباب* یعنی جوانی ہے، یہ وہ زمانہ ہے جب خون میں حرارت، جذبوں میں حدت اور حوصلوں میں اڑان ہوتی ہے، اسی لیے خالقِ کائنات کی نظر میں سب سے محبوب اور بہترین عبادت وہ ہے جو جوانی کے عالم میں کی جائے، عرشِ الٰہی کے سائے تلے جگہ پانے والے خوش نصیبوں میں اس جوان کا تذکرہ خاص طور پر کیا گیا ہے جس کی جوانی اللہ کی بندگی میں گزری ہو، لیکن یہی وہ موڑ ہے جہاں انسان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے، ایک طرف بندگی کا پرنور راستہ ہے اور دوسری طرف خواہشاتِ نفسانی اور گناہوں کی رنگین وادیاں ہیں، اسی کشمکش کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے کہ *یہ حق ہے سب سے بہتر عبادت شباب کی لیکن، یہی گناہ کا زمانہ ہے کیا کیا جائے* یہ سوال دراصل اس تذبذب کی عکاسی کرتا ہے جو ہر مخلص جوان کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔
​جب ہم جوانی کی آزمائش اور گناہ کے تقاضوں پر غور کرتے ہیں، تو قرآنِ کریم ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کا وہ ایمان افروز واقعہ سناتا ہے جو رہتی دنیا تک کے جوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، آپ علیہ السلام جوانی کے عالم میں تھے، حسن و جمال کا پیکر تھے اور ایک ایسے ماحول میں تھے جہاں گناہ کی دعوت دینے والی خود اقتدار کی مالکن تھی، دروازے بند تھے، کوئی دیکھنے والا نہ تھا اور گناہ کی تمام تر سہولتیں میسر تھیں، ایک جوان کے لیے اس سے بڑی آزمائش کیا ہو سکتی ہے؟ لیکن اس نازک ترین موڑ پر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی جوانی کے جذبات پر اللہ کی خشیت کو مقدم رکھا اور پکار اٹھے *مَعَاذَ اللّٰہِ* (اللہ کی پناہ!) آپ کا یہ عمل بتاتا ہے کہ جوانی میں گناہ کی طاقت رکھنا اور پھر بھی رب کے خوف سے پیچھے ہٹ جانا ہی وہ اصل جوہر ہے جو انسان کو مقامِ نبوت اور مرتبۂ ولایت پر فائز کرتا ہے، قدرت نے آپ کے اس استقلال کو قرآن کا *احسن القصص* (بہترین قصہ) بنا کر ابد تک کے لیے محفوظ کر دیا۔
​جوانی کو *گناہ کا زمانہ* اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دور میں انسانی جبلتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، آنکھوں میں بے باکی، قدموں میں آوارگی کی تڑپ اور دل میں لذتِ نفس کی پیاس بہت شدید ہوتی ہے، دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جوان کو پکارتی ہے، مگر یاد رکھیے کہ بندگی کا اصل امتحان ہی اس وقت ہے جب گناہ کی قدرت عروج پر ہو، ایک ضعیف اور کمزور انسان کا گناہ سے بچنا شاید اتنی بڑی بات نہ ہو، مگر ایک توانا جوان کا صرف اپنے رب کی خاطر نفس کو کچل دینا وہ عظیم کارنامہ ہے جو اسے فرشتوں کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کو اپنے اس بندے پر فخر ہوتا ہے جو جوانی کی مستی کو اللہ کے حکم کے تابع کر دیتا ہے۔
​اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ *کیا کیا جائے؟* اس طوفانِ بلا خیز میں اپنے ایمان کی ناؤ کو کیسے سلامت رکھا جائے؟ اس کا حل یہ ہے کہ انسان اپنی سمت درست کرے، جوانی کی توانائیوں کو کچلنا نہیں بلکہ انہیں مثبت رخ دینا ضروری ہے، اپنی تنہائیوں کو پاکیزہ بنانا، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا اور کائنات کے حقائق پر غور کرنا وہ طریقے ہیں جو نفس کی سرکشی کو قابو میں رکھتے ہیں، گناہ کا تقاضا ہونا انسانی فطرت ہے، مگر اس تقاضے کو پامال کر کے رب کی رضا کا انتخاب کرنا ہی وہ *جہادِ اکبر* ہے جس پر جنت کی نوید سنائی گئی ہے، جب قدم ڈگمگانے لگیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کے اس *معاذ اللہ* کو یاد کیجیے، جو ہر جوان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا کے بند دروازے اللہ کی نظروں سے چھپنے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔
​جوانی کی عبادت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ عمر کا وہ حصہ ہے جسے اللہ کے ہاں خاص طور پر پوچھا جائے گا، یہ وہ سرمایہ ہے جسے اگر اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے تو بڑھاپا پرسکون اور آخرت روشن ہو جاتی ہے، گناہ کے اس پرفتن دور میں خود کو بچا لینا ہی وہ کرامت ہے جو ایک عام جوان کو *مردِ مومن* بنا دیتی ہے، لہٰذا اس دورِ فتن میں مایوس ہونے کے بجائے اپنے ارادوں کو مضبوط کیجیے، ہر ٹھوکر پر توبہ کا سہارا لیجیے اور یہ یاد رکھیے کہ آپ کا رب آپ کی ہر اس کوشش کی قدر کرتا ہے جو آپ اپنے نفس کے خلاف کرتے ہیں، عبادتِ شباب ہی وہ زادِ راہ ہے جو زندگی کے سفر کو معتبر اور بندگی کو معطر بناتی ہے۔

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*