*غزہ میں بھوک کی انتہا، پیاس کی انتہا، لاشوں کی انتہا، یتیمی کی انتہا، اور سب سے بڑھ کر امت کی بے حسی کی انتہا ہے…*
بچے ماؤں کی گود میں دم توڑ رہے ہیں…
باپ اپنی اولاد کو دفنانے کے لیے کفن تک خریدنے سے قاصر ہے…
`اور ہم اب بھی پوچھ رہے ہیں:`
*“کیا اہلِ غزہ کو زکوٰۃ لگتی ہے؟”*
`یہ سوال نہیں، بلکہ ہماری بے حسی کا آئینہ ہے۔`
*📖 قرآن کی صدا*
`اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:`
*وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ*
*(النساء: 75)*
> *“تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر کھڑے نہیں ہوتے جو فریاد کر رہے ہیں؟”*
`اور ایک اور مقام پر فرمایا:`
*إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ*
*(التوبہ: 60)*
> *“صدقے اور زکوٰۃ تو فقراء اور مساکین کے لیے ہیں۔”*
سوچئے! کیا بھوکے، بے گھر، زخمی اور یتیم اس میں شامل نہیں؟
*📜 نبی کریم ﷺ کا فرمان*
`رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:`
> *“مومنوں کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، جب اس کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔”*
*(بخاری، مسلم)*
اگر غزہ جل رہا ہے اور ہمارا دل نہیں جل رہا…
تو ہمیں اپنے ایمان کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔
*⚠ مال کی محبت میں گم لوگو!*
`قرآن خبردار کرتا ہے:`
*أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ*
*(التکاثر: 1)*
> *“تمہیں مال کی کثرت نے غفلت میں ڈال دیا ہے۔”*
میرا گھر…
میرا بینک بیلنس…
میری گاڑی…
میری جائیداد…
`لیکن یاد رکھو!`
*ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ*
*(التکاثر: 8)*
> *“پھر اس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔”*
*ذرا تصور کریں…*
آپ کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں…
آپ کی ماں کی لاش آپ کے سامنے پڑی ہو…
اور آپ کے پاس کفن کے پیسے بھی نہ ہوں…
کیا آپ چاہتے ہوں گے کہ کوئی پوچھے:
*“کیا آپ زکوٰۃ کے مستحق ہیں؟”*
*یا آپ چاہیں گے کہ کوئی فوراً آپ کی مدد کرے؟*
`اے امت مسلمہ!`
*اب بس بھی کریں چھوڑیں یہ غفلت کی زندگی اہل فلسطین کیساتھ عملی اظہار یکجہتی کریں۔*
اہلِ فلسطین، اہلِ غزہ اور اہلِ بیت المقدس کی مدد کریں۔
از
قلم
سفیان احمد