بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
عورت کے اعتکاف کا طریقہ
سوال
عورت کے اعتکاف کا طریقہ کیا ہے اور نیت کیا کرنی ہوتی ہے ؟
جواب
عورتوں کے لیے بھی اعتکاف کرنا سنت ہے اور ثواب کا باعث ہے،عورتوں کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ عورتیں اپنے گھر کی مسجد میں اعتکاف کریں، یہی ان کے لیے بہتر ہے اور گھر کی مسجد سے مراد وہ جگہ ہے جسے گھر میں نماز ، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادات کے لیے متعین کرلیا گیا ہو، اگر گھر میں عبادت کے لیے پہلے سے خاص جگہ متعین نہیں ہے تو اعتکاف کے لیے گھر کے کسی کونے یا خاص حصے میں چادر یا بستر وغیرہ ڈال کر ایک جگہ مختص کرلی جائے، پھر اس جگہ اعتکاف کیاجائے۔اور عورتوں کے لیے گھر کی مسجد بالکل اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے مسجد کا حکم ہے۔اعتکاف کی حالت میں طبعی اور شرعی ضرورت کے بغیر وہاں سے باہر نکلنا درست نہیں ہوگا۔
عورت اعتکاف کی جگہ سے باہر کھانے پکانے یا گھر کے کام کاج کے لیے نہیں نکل سکتی، اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔اگر اس کو باہر سے اس کے اپنے لیے کوئی کھانا لاکر دینے والا نہیں ہے تو یہ باہر کھانا اٹھانے کے لیے جاسکتی ہے، کھانا اٹھاکر فوراً اندر آجائے ، باہر نہ رکے، ورنہ اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔البتہ عورت اپنی اعتکاف گاہ کے اندر رہ کر گھر کے کام کاج (مثلاً آٹا گوندھنا، کھاناپکانا، کپڑے دھونا وغیرہ) سرانجام دے سکتی ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے ان کاموں کے لیے کوئی متبادل انتظام کرلے؛ تاکہ پوری یک سوئی کے ساتھ یہ عبادت اپنی روح اور مقصد کے ساتھ ادا ہوجائے۔
اعتکاف کی نیت یہی ہے کہ اعتکاف کے ارادے سے عبادت کے لیے مخصوص جگہ دس دن کے لیے بیٹھ جائے۔اور زبان سے یہ کہہ دیاجائے کہ میں دس دن کے مسنون اعتکاف کی نیت کرتی ہوں تو یہ بہتر ہے۔
واضح رہے کہ اعتکاف کی کم سے کم مدت احادیث میں بیان نہیں کی گئی، اسلیےاعتكاف كى كم از كم مدت ميں علماء كرام كا اختلاف ہے:
جمہور علماء كرام كہتے ہيں ايك لحظہ كا بھى اعتكاف ہو سكتا ہے، امام احمد، امام شافعى اور امام ابو حنيفہ رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے. {الدر المختار ( 1 / 445 )۔}
رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دس دن اعتکاف مسنون ہے، وہ نہ ہو سکے تو کم از کم تین دن، وہ بھی نہ ہو سکے تو ایک دن ایک رات، وہ بھی نہ ہوسکے تو صرف رات کے ہی اعتکاف کی نیت کر لیں۔
ان شاء اللّٰہ نیت خالص رضاۓ الٰہی کی ہو تو ثواب مل جائیگا۔
واللّٰہ أعلم بالصواب
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ