آج کا دن: محاسبہ اور نئے عزم کا دن
رمضان المبارک کے 20 روزے گزر چکے… آج رک کر خود سے سوال کرنے کا دن ہے۔
محاسبۂ نفس
کیا نماز، قرآن اور عبادات سے دل جڑ گیا؟ کیا گناہوں پر شرمندگی اور اللہ سے تعلق مضبوط ہوا؟
مزاج میں تبدیلی
کیا دل میں دکھی انسانیت کا احساس، امت کی فکر، معاف کرنے کا جذبہ اور خدمت کا جذبہ پیدا ہوا؟
اصلاحِ زندگی
کیا ہم نے قرآن، سیرت اور سنت کے مطابق زندگی سنوارنے اور دین سیکھنے سکھانے کا ارادہ کیا؟ اگر ہاں تو اس کے لیے عملی قدم کیا اٹھایا؟
نئی نسل کی فکر
کیا ہم اپنے بچوں کو بھی ایسا ماحول اور موقع دے رہے ہیں کہ وہ رمضان کی قیمتی گھڑیوں کی اہمیت سمجھیں اور ہمارے ساتھ عبادات میں شامل ہوں؟
اولاد کو دین سے جوڑنا
کیا ہم اپنی نئی نسل کو اغیار کے حوالے کرنے کے بجائے قرآن و سنت سے جوڑنے کا عملی بندوبست کر رہے ہیں؟
آخری عشرے کی تیاری
اب عزم کریں کہ آخری عشرے کی ہر رات اور ہر لمحہ عبادت، دعا اور استغفار میں گزاریں گے۔
دعاؤں کی درخواست
اللہ تعالیٰ ہمارے رمضان کو قبول فرمائے، لیلۃ القدر نصیب فرمائے، دلوں کو پاک کرے اور ہمیں اس حال میں دنیا سے رخصت فرمائے کہ اللہ راضی ہوں اور رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک سے حوضِ کوثر کا جام نصیب ہو۔ آمین۔
عائشہ ❤