آخری عشرہ، شب قدر کی اہمیت فضیلت اور عبادت کا اہتمام
10 مارچ، 2026
بسم ﷲ الرحمٰن الرحیم
محترم قارئین کرام!
اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندوں کے ساتھ سب سے زیادہ فضل و کرم اس کی رحمت اور مغفرت کے ذریعے ہوتا ہے، اللّٰہ رب العزت نے اپنی رحمت کو اپنے غضب کے اوپر رکھا ہے اور وہ اپنے بندوں کے نیک اعمال سے خوش ہوکر ن کے گناہوں کو ختم کر دیتا اور نیکی میں بدل دیتا ہے ماہ رمضان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ رحمت کا خاص مظہر بنایا ہے۔ رمضان المبارک تو مکمل ہی رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے لیکن اللہ رب العزت نے آخری عشرے کو بہت ہی زیادہ فضائل اور انعام والا بنایا ہے، آخری عشرے کی اہمیت کو مزید بڑھانے کے لیے اعتکاف اور شب قدر جیسی اہم عبادات کا کا ذکر کیا، اعتکاف امت کےلیے سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اعتکاف آخری عشرہ میں یعنی اکیسویں شب سے ھلال عید کی رؤیت تک رضاۓ الہی کے لیے اللہ کے گھر میں ٹہر کر عبادت کرنے کو کہتے ہیں، ان دس ایام میں معتکفین رضاۓ الہی کی طلب میں مساجد میں ٹہرتے ہیں، اعتکاف کے لیے مرد حضرات مساجد میں اور خواتین گھر کے اندر مخصوص حصہ میں گوشہ نشینی اختیار کرتے ہیں
آخری عشرے میں ليلة القدر (شبِ قدر) رکھ کر اللہ رب العزت نے اپنے بندوں پر مزید کرم کیا ہے اس رات میں قرآن مجید کو آسمان دنیا پر اتارا جس کے ذریعے اس رات کی خیروبرکت اور عظمت میں ایک غیر معمولی اضافہ ہوا قرآن کریم میں اس رات کی اہمیت اور فضیلت کو کچھ یوں بیان کیا کہ سورة القدر کو نازل کیا اور اس رات کو ایک ہزار مہینوں کی راتوں سے بھی زیادہ فائدہ پہونچانے والی رات بنا دیا چوں کہ عربی زبان میں زیادہ سے زیادہ کےلیے ہزار ہی کا عدد مستعمل ہے غالباً قرآن کریم میں اس رات کی فضیلت کو بتانے کے لیے ہزار کا ذکر کیا گیا ورنہ اس رات کا مقام ومرتبہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
لیلةالقدر کی یہ رات اپنے اندر نورانیت اور تقرب الہی کا مواقع رکھتی ہے شب قدر کو رمضان کی کسی خاص رات کے ساتھ مخصوص نہیں کیا گیا بلکہ اخیر عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کی تلقین کی گی ہے۔ اور اس کا متعینہ وقت اور موقع مخفی رکھا گیا ہے، حضور اقدسﷺ نے آخری عشرے کی ٢١، ٢٣، ٢٥، ٢٧، ٢٩ میں شبِ قدر کو تلاش کرنے کی تلقین کی ہے،اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک رات سے فائدہ اٹھانے کی خاطر ضمناً مزید چار طاق راتوں میں عبادت کے مواقع فراہم ہوتے ہیں لیکن ٢٧ شب کو مسلمان زیادہ قدر کرتے ہیں اس لیے کہ اس میں شبِ قدر ہونے کا زیادہ قیاس ہے۔۔
حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ " جو شخص شبِ قدر میں عبادت کے لیے ایمان و احتساب کے ساتھ کھڑا ہو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" شعب الایمان للبیہقی کی ایک حدیث میں ہے کہ "حضرت جبریل علیہ السلام جو کہ انبیاء علیہم السلام کے پاس احکام الہی کو لےکر آتے تھے فرشتوں کے جلو میں اسی شبِ قدر زمین پر تشریف لاتے ہیں اور اللہ کے جو بندے کھڑے یا بیٹھے رب العزت کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں وہ ان کے لیے دعُإ رحمت کرتے ہیں ، بعض روایات میں یہ بھی وارد ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام عبادت اور ذکر میں مشغول لوگوں سے مصافحہ کرتے ہیں اورانکی دعا پر آمین کہتے ہیں۔۔
جہاں اس رات میں عبادت کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے وہیں یہ رات دعاؤں کی قبولیت اور اجابت کی بھی ہے ، حدیث کے بیان میں کچھ یوں ذکر ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے نوازنے کے لیے اپنی رحمتوں کو اپنے بندوں کی طرف خصوصی طور متوجہ کردیتے ہیں اور یہ اعلان ہوتا ہے۔ ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں، ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا جسے میں معاف کروں اور یہ سلسلہ غروب آفتاب سے فجر تک رہتا ہے اور جو شخص بھی اس ندائے الٰہی پر لبیک کہتا ہوا اسکے دربار میں اپنی حاجات مانگتا ہے سو اس کی دعا مقبول ہو جاتی ہے۔
ارشاد نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ چار افراد ایسے ہیں جنکی دعا اس بابرکت رات میں قبول نہیں ہوتی ان پر قبولیت کا دروازہ کا بند ہو جاتا ہے ، خداۓ لم یزل کا قلمِ عفو ان کو سایۂ عفو سے محروم رکھتا ہے،پہلا وہ شخص جو عادتاً شراب پیتا ہو دوسرا والدین کا نافرمان تیسرا قطع تعلق کرنے والا چوتھا بغض اور کینہ رکھنے والا، آہ! کیسے کم نصیب اور بد قسمت ہیں یہ لوگ کہ جس رات خداۓ وحدہٗ لاشریک کی رحمت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رھا ہے اور حکم ربانی ہے کہ مانگو عطا کرونگا، مغفرت طلب کرو معاف کر دونگا، مگر یہ گنہگار اور نافرمان لوگ اس لطف کرم سے محروم ہیں۔
شب قدر میں رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوںٔی اس دعا کا اہتمام کریں ، دعا ہےیہ "اللھم انك عفو كريم تحب العفو فاعفوا عنى " اے اللہ، تو یقیناً معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے میرے ساتھ بھی معافی کا معاملہ فرما ،یہ دعا بہت مختصراور جامع دعا ہے اس کا اہتمام صرف شب قدر میں ہی نہیں بلکہ ہمیشہ کرنا چاہیے، اسی کے ساتھ اس عظیم رات میں نماز، تلاوت قرآن مجید، استغفار و دعا ذکر و تسبیح حمد مناجات اور درود شریف کی کثرت کریں اور ہر قسم کے برے کام سے احتراز کریں آپ ﷺ ان راتوں کی تلاش میں اس قدر اہتمام کرتے کہ خود بھی شب بیداری کرتے اور اپنے متعلقین کو بھی جگا تے۔
اور ہاں اس بات کا مکمل خیال رہے کہ کہیں بازاروں کی خرید و فروخت، ہوٹلوں اور قہوہ خانوں کے ذائقے اور بے فاںٔدہ کاموں کی دوڑ دھوپ ہمیں اس نعمت عظمٰی سے محروم نہ کر دے کہ یہ تمام کام بعد میں بھی ہوسکتے ہیں مگر گناہوں پر توبہ، حصولِ جنت کی دعا ،جہنم سے نجات کے لیے استغفار ہمارا اولین عمل ہونا چاہیے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اتنی بابرکت اور باعظمت رات میں بھی ہم محروم جاںٔیں ۔۔۔
ختم شد