قوت ارادہ  جسے فکر ونیت کہا جاتا ہے واقعتاً بہت بڑی چیز ہے اسی سے دنیا کے کام چلتے ہیں اسی کے ذریعے اللہ والوں نے بلند سےبلند مقامات طے کرلیے ہیں اسقدر اعلیٰ درجہ کی شیء ہونے کے باوجود آج اسکو معمولی اور سرسری سمجھا جاتا ہے اسلیے کہ ارادہ موجود ہے مگر غیر حسی ہے جسے آنکھ ۔کان ناک زبان سے جانا نہیں جاسکتا ہے جسکی بناء پر اسکی ناقدری کی جاتی ہے لیکن قوت فکر حقیقتاً بہت ہی عظیم
       شیء ہے جو انسان کو ودیعت کی گئی ہے

ارادہ فی نفسہ نہ کوئی بری شیء ہے نہ ہی اچھی شئ  بلکہ اسکا حسن وقبح اپنی مراد پر موقوف ہے اگرنیک عمل کا قصد کرے تو تو ارادہ عمدہ ہے اور اگر برائی کا ارادہ کرے تو ارادہ برا ہے اچھی سوچ وفکر پر ثواب اور بری فکر پر اگر اسپر عمل کرتا ہے تو گناہ لکھا جاتا ہے اسلیے کہ کسی عمل پر جزا یا سزا بغیر ارادہ کے نہیں ہوتا ہے، اور بغیر عمل کے ارادہ پر ثواب و عقاب لکھ دیا جاتا ہے لیکن بغیر ارادہ کے کوئی گناہ بھول چوک سے صادر ہوگیا تو وہ معاف ہےـ
 (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَسِينَا اَاَخْطَأنَا )...
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو تعلیم فرمائی کہ اس طرح دعا کیا کر  اےاللہ! ہماری بھول چوک فرما: نیز حدیث میں ہے
( رُفِعَ عن اُمَّتِي الخَطَأُوالنِِسْيَانُ).
آیت وحدیث سے معلوم ہوا کہ بھول چوک   
معاف ہے

بعض اعمال ایسے ہیں جو بغیر نیت کے معتبر ہی نہیں ہیں ۔۔جیسے نماز زکوٰۃ روزہ بغیر نیت کے معتبر ہی نہیں ؛ ارادہ ہی کی بناء پر قتل عمد اور قتل خطاء میں فرق ہوجاتا ہے ۔اگر قصداً کسی کو قتل کردیا تو اس پر گناہ عظیم ہوگااور ساتھ ہی دنیا میں قاتل کو مقتول کے بدلے قتل کیا جائے گا جسکو قصاص کہا جاتا ہے؛ اوراگر بھول چوک سے قتل ہوگیا قتل کا ارادہ نہ تھا مثلاً کسی جانور پر بندوق چلائی وہ جانور کے بجائے کسی آدمی کو لگی وہ مرگیا تو قاتل پر گناہ نہیں ہوگا بلکہ اس پر دیت لاگو ہوگی_
 اسی طرح اگر کسی معصیت کا پکا ارادہ کرلیا ہے اگرچہ انجام کو نہ پہونچ پائی تو پھر بھی گناہ ہوگا اسلیے کہ ارادہ سبب غالب ہے اسکے بعد عمل صادر ہوہی جاتا ہے جیسے زہر کی گولی کھانے کے بعد انسان زیادہ تر مرہی جاتا ہے  اگر کوئی خودکشی کے ارادہ سے زہر کھالے اور دوا دارو کے ذریعے سے زہر کا اثر ختم ہوگیا اور وہ نہ مرا پھر بھی وہ گنہ گار شمار ہوگا اسلیے کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی یہ اتفاقی بات ہے کہ وہ نہ مرا۔  اسی طرح اگر کسی نے معصیت کا پختہ ارادہ کرلیا تھا تو گویا کہ اسنے کوئی کسر نہیں چھوڑری اور اللہ کی عادت بھی یہی ہے پختہ ارادہ کے بعدعمل صادر ہوجایا کرتا ہے یوں اتفاقاصادر نہ ہو تو یہ نادر ہے اور۔۔۔
          (النادر كالمعدوم) 
 اسی کو حدیث میں ذکر کیا ہے :عن رسول الله صلى الله عليه وسلم" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ". فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ : "
کإِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَی قتل صاحبہ
                                                        (ترجمہ)
 اللہ کے نبی کریم صلی نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں تلوار سونت لے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے پس میں ابوبریدہ نے کہا یارسول اللہ یہ قاتل کا سمجھ آتا ہے مقتول کاکیا قصور ہے نبی ‌ص نے فرمایا گویا کہ 
وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کرنے پر آمادہ تھا 

آج مسلمانوں میں سب سے زیادہ اسی کی کمی  پائی جاتی ہے وہ صرف چاہتے ہیں کہ ہمیں بلندی حاصل ہو مگر قوت فکر وعمل سے عاری ہیں۔
             قوت فکروعمل پہلے پناہ ہوتی ہے۔ 
              تب کسی قوم کو زوال آتا ہے 
  چناں چہ کہتے ہیں کہ فلاں کام ہم نے بہت کرنا چاہا مگر نہیں ہوا ۔۔
بخدا انھوں نےارادہ نہیں کیا صرف تمنا ہی تمنا کی ہے ۔اسنے صرف چاہا ہی چاہا ہے 
     چاہتے تو سب ہیں کہ اوج ثریا پہ ہو مقیم 
       پہلے پیدا تو کرے کوئی ایسا قلب سلیم
 
ارادہ نام ہے کہ انسان کسی کام کا خیال کرے اسکی دھن میں لگ جائے اپنی پوری کوشش اسی میں صرف کردے ایساکرنے کے باوجود بھی
نہ ہو تو دنیا کے کام کیسے ہوجاتے ہیں اسلیے جو کہے کہ میں نے فلاں کام کا ارادہ کیاتھا کام ہوا ہی نہیں تو اسکی بات قابلِ تسلمیم نہ ہوگی اس سے کہاجائے گا تو نے صرف تمنا کی تو نے صرف چاہا ہے اسکے لیے تگ ودد نہیں کی ہے یہی کمزوری ہے جس نے مسلمانوں کو تمام میدان میں پستی کا شکار بنارکھا ہے چاہے میدان سیادت ہویاقیادت ،عبادت ہویاریاضت ، اجتناب عن الکبائر ہو یا مواظبت علی الطاعات ،معاشیات ہو یا معاملات، تعلیمی سرگرمیوں کامیدان ہویا اخلاقی کوششیں، سب میں مسلمان پستی کا شکار نظر آتے ہیں اسلیے اپنے آپ کو قوت فکر وعمل سے لیس کرنا ہوگا اور کچھ کرنے کا جذبہ پیداکرنا ہوگا اپنے اندر صدیق کی صداقت۔فاروق کی فاروقیت عثمان کی عفت و پاکدامنی علی کی شجاعت وبہادری خلوص کی چاشنی ،ربانیت کا جمال، پیدا کرنا ہوگا تبھی جاکر مسلمان بلندیوں کے اعلی معیار
پر ہوگا دنیا اسکے سامنے جھکے گی

 جو ہچکچا کے رہ گیا وہ رہ گیا
جس نے لگائی ایڑ تو وہ خندق کے پار ہے