*مسلمانوں کو سمجھنا چاہئے*
کہ انہیں اپنے مسائل
خود حل کرنے ہیں
دنیا نے نہیں
اور عالمی برادری نامی
جانور نے بھی نہیں
حقیقت یہ ہے ہم نہ مجبور ہیں
نہ بےبس
بلکہ ہم میں ہر جگہ
درست اور باہمت فیصلہ
کرنے والی قیادت کی کمی ہے
نظریات کی کمی ہے
نظریہ مضبوط ہو
تو منزل دور نہیں ہے
اور مسلمان کا نظریہ
صرف اسلامی تعلیمات
و احکامات ہیں
جس کی بدولت
عملی کام کر کے
اپنے اسلاف کے مشن پر چل کر
با اختیار بن سکتے ہیں
ایک کارکن کے بجائے
ایک قوم بنانا ہو گی
سخت کٹھن
اور مشکل راستوں سے
استقامت کے ساتھ گزرنا ہو گا
خدارا اپنے بچوں کی
ایسی ٹھوس تربیت کریں
کیونکہ ان کو
امام مہدی رض اور حضرت عیسی ع
کی فوجوں میں شامل ہونا ہے
نا کہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں
کسی یہودی کو ملازم
ساری بات ہی
تربیت پہ آ کے ختم ہوتی ہے
ہم اپنے بچوں کی
ایسی تربیت کرتے ہیں
کہ وہ زیادہ سے زیادہ
پیسے کما سکے
یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں
کسی یہودی کا ملازم ہو
مرضی تو پھر ۔۔۔
بوس کی ہی چلتی ہے
ملازم کی نہیں
اول تو ہم ایسی قیادت سے ہی
مرحوم ہیں
جو منصوبے بنا سکے۔