"اب میں صرف صبر ہی کروں گی"
—یہ جملہ اکثر ان لبوں سے سنائی دیتا ہے جو بظاہر خود کو صابرین کی صف میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ 
لیکن کیا یہ واقعی صبر ہے؟
حقیقی صبر وہ ہے ۔۔۔۔۔۔
جب آپ کے پاس بدلہ لینے کی مکمل قدرت اور اختیار ہو، زبان پر بھرپور جواب تیار ہو، لیکن آپ صرف اللہ کی رضا کے لیے اپنی طاقت کو قابو کر لیں۔ 
صبر کا حسن صرف خاموشی میں نہیں، بلکہ اس 'درگزر' میں ہے کہ جس کے بعد کبھی اس تلخ واقعے کا ذکر تک نہ ہو اور تعلقات میں وہی مٹھاس اور خلوص واپس آ جائے، گویا وہ تلخی کبھی ہوئی ہی نہ تھی۔
ہمارے صبر کا المیہ یہ ہے کہ
ہم اپنی 'لاچاری' کو صبر کا نام دے دیتے ہیں۔
 اکثر جب ہم کہتے ہیں کہ "ہم صبر کر رہے ہیں"، تو درحقیقت ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ 
"فی الحال میرے پاس کوئی چارہ نہیں ہے، میں مجبور ہوں۔"
یہ صبر نہیں، یہ تو محض ایک 'شکست خوردہ برداشت' ہے۔
 ہم خاموش اس لیے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس پلٹ کر وار کرنے کی ہمت یا موقع نہیں ہوتا۔ 
حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہمیں موقع ملے، تو ہم اپنے اندر چھپے سارے گلے، طعنے اور پچھلے تمام حساب کتاب ایک ہی بار میں چکتا کر دیں۔
برداشت(Tolerance) وہ کیفیت ہے جس میں انسان وقتی خاموشی کو مجبوری سمجھ کر اپنے اندر غصہ دبا لیتا ہے۔ یہ برداشت ایک ایسا لاوا ہے جو انسان کے دل و دماغ کو اندر ہی اندر جھلسا رہا ہوتا ہے۔ اور جیسے ہی باہر سے کسی چنگاری کی ہلکی سی لو اسے چھوئے، تو طنز، طعنوں اور تلخ الفاظ کا ایک ایسا دھماکہ ہوتا ہے جو برسوں کے تعلقات راکھ کر دیتا ہے۔
صبر کیوں مشکل ہے؟
اگر صبر اتنا ہی آسان ہوتا کہ صرف خاموش ہو جانے کا نام صبر ہوتا، تو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں صابرین کے لیے اتنی بڑی بشارت نہ سنائی ہوتی:
"...وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ" (اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری۔۔۔۔ سنا دیں)۔
یہ بشارت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ایک انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے۔
حضرت ایوبؑ کا صبر ہمارے لئےایک لازوال مثال ہے ،
قرآنِ مجید میں حضرت ایوب علیہ السلام کی مثال ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا صبر محض خاموشی نہیں، بلکہ اللہ کی رضا پر کلی تسلیم تھی۔ 
برسوں کی بیماری، مال و دولت اور اولاد کا نقصان—سب کچھ آزمائش میں تھا، لیکن ان کی زبان پر شکوہ نہ آیا۔ ان کا صبر وہ بلند ترین مقام ہے جہاں انسان 'مجبوری' سے نکل کر 'رضا' کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیے! جب تک آپ کا دل معاف نہ کر دے اور تعلق میں وہی پہلی جیسی مٹھاس نہ لوٹ آئے، تب تک یہ سمجھ لیں کہ آپ صرف 'برداشت' کر رہے ہیں۔ صبر وہ ہے جو انسان کو توڑتا نہیں، بلکہ اسے اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
از قلم:زا-شیخ