میں نے نو ماہ انہیں اپنے پیٹ میں پالا 
میں انہیں اس دنیا میں لائی، اپنے جسم کی سات تہوں کو چیر کر 
میں نے ان کے ننھے وجود کی خاطر ان گنت دن اور راتیں قربان کر دیں 
میں نے اپنے جسم سے انہیں دودھ پلایا، اپنی جان کا ہر قطرہ ان کے نام کیا 
میں ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کی خاطر اپنا کھانا اور اپنا سکون بھول گئی 
ویکسینیشن کے دنوں میں، میں ان کے ساتھ روئی ہوں 
میں نے اپنی خوشیاں تیاگ دیں اور صرف تب سکون پایا جب وہ ٹھیک تھے 
جب وہ پہلی بار مسکرائے تھے تو ایسا لگا جیسے پوری دنیا مجھے مل گئی ہو 
جب وہ لڑکھڑاتے قدموں سے چلنا سیکھ رہے تھے تو میں نے ڈر کے ساتھ ساتھ فخر بھی محسوس کیا 
ان کی ہنسی میری زندگی کی روشنی ہے، اور ان کا ایک آنسو میرے دل کو چیر دیتا ہے 
راتوں کو جاگ جاگ کر میں نے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا
ان کے ہر درد کو اپنے دل میں محسوس کیا ہے
اور ہر مشکل سے پہلے ان کے لیے اللہ سے دعا مانگی ہے 
میں نے اپنی خواہشیں، اپنے خواب اور اپنی خوشیاں تک ان کے نام کر دی ہیں 
کیونکہ ماں کے لیے اس کی اولاد ہی اس کی دنیا ہوتی ہے۔
اس لیے مجھے یہ مت سکھاؤ کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے —
میں کسی بھی انسان سے بہتر جانتی ہوں
کیونکہ ماں کا دل وہ سمندر ہے
جس میں محبت بھی ہے، قربانی بھی ہے، اور بے شمار دعائیں بھی 
میں ماں ہوں…
اور ماں اپنی اولاد کے لیے ہر درد سہہ سکتی ہے،
لیکن ان کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتی۔ 
عائشہ ❤