بد‌گمانی کیا ہے؟
حقیقت سے کوسوں دور، اپنے ہی ذہن کے خود ساختہ دباؤ میں آ کر نتائج اخذ کر لینا۔ یہ وہ زہریلا خیال ہے جو محبتوں کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔
کسی کو آہستہ بات کرتے دیکھا تو سوچ لیا: 
"یہ میری برائی کر رہے ہیں!"
کسی نے جواب میں ذرا سی دیر کی تو فیصلہ سنا دیا:
 "یہ مجھے نظر انداز کر رہے ہیں!"
آپ نے کسی کو سلام کیا یا بات شروع کی، اس نے جواب نہیں دیا (یا مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں سنا)۔
"اسے اب مجھ سے بات کرنا پسند نہیں، یہ مجھے حقیر سمجھتی ہے۔" (حالانکہ وہ شاید کسی گہری پریشانی میں ڈوبی ہو)۔
کسی نے آپ کو کسی چھوٹی سی تقریب یا پروگرام میں نہیں بلایا۔
"یہ لوگ مجھے اپنی سطح کا نہیں سمجھتے یا مجھ سے جلتے ہیں۔" (حالانکہ ممکن ہے وہ صرف خاندان کے قریبی افراد تک محدود رہے ہوں)۔
آپ نے میسج کیا، سامنے والے نے 'Seen' تو کیا مگر فوراً جواب نہیں دیا۔
"یہ مجھے نظر انداز کر رہی ہے، اب میں بھی اسے کبھی جواب نہیں دوں گی۔" (حالانکہ وہ شاید کام میں مصروف ہو کر موبائل چھوڑ چکی ہو)۔
آپ کمرے میں داخل ہوئے اور وہاں موجود دو لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
 "یہ ضرور میرا مذاق اڑا رہے ہوں گے یا میرے کپڑوں/حلیے پر ہنس رہے ہیں۔"
آپ کسی مشکل میں تھے اور کسی نے عین وقت پر مدد سے معذرت کر لی۔
 "مطلب پرست لوگ ہیں، ضرورت کے وقت کوئی ساتھ نہیں دیتا۔" (یہ سوچے بغیر کہ شاید اس کی اپنی مجبوری آپ سے بھی زیادہ بڑی ہو)۔
دورانِ گفتگو کسی نے آپ کی بات کاٹ دی یا اپنی بات شروع کر دی۔
"اسے میری بات میں کوئی دلچسپی نہیں، یہ خود کو مجھ سے بہتر سمجھتی ہے۔"
ہم سوالات کے جوابات خود ہی گھڑ لیتے ہیں،
 مجرم بھی خود ہی طے کر لیتے ہیں اور سزا بھی خود ہی سناتے ہیں۔
 حدیث کے مفہوم‌میں آپ ﷺ نے اس منفی سوچ کے زہر سے بچنے کا بہترین نسخہ دیا:
"بُدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے۔" (صحیح بخاری)

اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
"
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقین جانو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"
ہم اکثر چیزوں کو "ذاتی" (Personal) لے لیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ دنیا کا ہر واقعہ صرف ہمارے گرد گھوم رہا ہے۔
اگر کسی کے رویے سے آپ کو تکلیف ہو، تو اپنے ذہن میں "عدالت" لگانے کے بجائے اس شخص سے "خیر خواہی" کا گمان رکھیں، یا پھر ایک بار پیار سے پوچھ لیں۔ زیادہ تر غلط فہمیاں صرف ایک "وضاحت" (Clarification) مانگنے سے ختم ہو جاتی ہیں۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے "حسنِ ظن" (اچھا گمان) کا دروازہ بند کر کے "شک کی کھڑکی" سے دنیا کو دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ ہم کسی کی نیتوں کے قاضی بن بیٹھے ہیں۔ حالانکہ، نیتوں کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔
بدگمانی صرف آپ کی ذہنی سکون کو تباہ نہیں کرتی، بلکہ ان رشتوں کو بھی راکھ کر دیتی ہے جو برسوں کی محنت سے بنتے ہیں۔ ذہن میں کہانیاں بنانا چھوڑیں، سیدھی بات کریں۔ شک کی جگہ یقین کو اور بدگمانی کی جگہ خیر خواہی کو دیں، کیونکہ سکون صرف "صاف دل" میں بستا ہے۔
از قلم: زا-شیخ